Daily Mumtaz:
2026-07-24@08:06:35 GMT

لاہور، 5 ماڈل سڑکوں پر چنگچی رکشوں پر مکمل پابندی عائد

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

لاہور، 5 ماڈل سڑکوں پر چنگچی رکشوں پر مکمل پابندی عائد

 

لاہور: ( نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سفر محفوظ اور آسان بنانے کے لیے پنجاب میں ٹریفک مینجمنٹ میں 60 سال بعد پہلی بار 20 بڑے اصلاحی اقدامات کا اعلان کر دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ٹریفک کے جدید نظام کی منصوبہ بندی، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر تفصیلی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں کسی بھی گاڑی کا بار بار چالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی ، سرکاری گاڑی قانون سے بالاتر نہیں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھاری جرمانہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دے دی، یوٹرن کی ری ماڈلنگ سے سڑکیں محفوظ اور منظم بنانے کی ہدایت کی، حادثات میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو دیت فوری طور پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

فیصلہ کیا گیا کہ مناسب پارکنگ نہیں ہوگی تو میرج ہال بھی نہیں ہوگا،میرج ہال کو پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا، پنجاب میں کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ ختم کرنے کے لیے سخت فیصلہ کن کریک ڈوان ہوگا، انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی مالک کو 6ماہ تک قید بھی ہوسکتی ہے

وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں بس کی چھت پر سواریاں ختم،کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا اور لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی عائد کر دی، لاہور میں ٹریفک کی صورتحال میں بہتری کے لیے 30 دن کی فیصلہ کن ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔

اجلاس میں ہیلمٹ، چھتوں پر سواریاں بیٹھانے اوردیگرخلاف ورزیوں پرچالان کی رپورٹ پیش کی گئی۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ دوسرے شہر جانے والی گاڑی کو تیز رفتاری سے جلد پہنچنے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، لاہورسمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کرنا پڑے گا،کوئی امتیاز نہ رکھاجائے، خلاف ورزی پر ہر شخص کو جرمانہ دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کو آخری چانس دے رہی ہوں،اگلا موقع نہیں ملے گا، نہ کرسکے تو نیا ڈیپارٹمنٹ بنانا پڑے گا، ہر چیز ٹھیک کردی مگر ٹریفک کا برا حاصل ہے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اورمسلسل بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم