لاہور، 5 ماڈل سڑکوں پر چنگچی رکشوں پر مکمل پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
لاہور: ( نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سفر محفوظ اور آسان بنانے کے لیے پنجاب میں ٹریفک مینجمنٹ میں 60 سال بعد پہلی بار 20 بڑے اصلاحی اقدامات کا اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ٹریفک کے جدید نظام کی منصوبہ بندی، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر تفصیلی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں کسی بھی گاڑی کا بار بار چالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی ، سرکاری گاڑی قانون سے بالاتر نہیں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھاری جرمانہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دے دی، یوٹرن کی ری ماڈلنگ سے سڑکیں محفوظ اور منظم بنانے کی ہدایت کی، حادثات میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو دیت فوری طور پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ مناسب پارکنگ نہیں ہوگی تو میرج ہال بھی نہیں ہوگا،میرج ہال کو پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا، پنجاب میں کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ ختم کرنے کے لیے سخت فیصلہ کن کریک ڈوان ہوگا، انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی مالک کو 6ماہ تک قید بھی ہوسکتی ہے
وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں بس کی چھت پر سواریاں ختم،کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا اور لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی عائد کر دی، لاہور میں ٹریفک کی صورتحال میں بہتری کے لیے 30 دن کی فیصلہ کن ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔
اجلاس میں ہیلمٹ، چھتوں پر سواریاں بیٹھانے اوردیگرخلاف ورزیوں پرچالان کی رپورٹ پیش کی گئی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ دوسرے شہر جانے والی گاڑی کو تیز رفتاری سے جلد پہنچنے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، لاہورسمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کرنا پڑے گا،کوئی امتیاز نہ رکھاجائے، خلاف ورزی پر ہر شخص کو جرمانہ دینا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کو آخری چانس دے رہی ہوں،اگلا موقع نہیں ملے گا، نہ کرسکے تو نیا ڈیپارٹمنٹ بنانا پڑے گا، ہر چیز ٹھیک کردی مگر ٹریفک کا برا حاصل ہے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اورمسلسل بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔