WE News:
2026-07-24@12:33:12 GMT

وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

سائنس دانوں نے زمین پر ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آنے والے خلائی اجسام کے ٹکرانے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟

نئی تحقیق میں ان اجسام کی ممکنہ رفتار اور زمین سے ٹکرانے کے زاویے وغیرہ کا حساب لگایا گیا ہے۔

رواں سال یکم جولائی کو دریافت ہونے والا پراسرار بین النجمی دُم دار ستارہ 3 آئی اٹلس پہلے ہی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی 2 بین النجمی اجسام— ’اوٗمواموا‘ (2017) اور بوریسوف (2019) ہمارے نظامِ شمسی کا دورہ کر چکے ہیں۔

اگرچہ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ 3 آئی اٹلس زمین کے لیے کسی بھی خطرے کا باعث نہیں تاہم اگر مستقبل میں کوئی آئی ایس او زمین سے ٹکرائے تو سائنس دانوں نے اس بات کی نشاندہی کر دی ہے کہ کن خطوں کو زیادہ دھچکا لگ سکتا ہے۔

کم عرض البلد کے قریب علاقے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں

ایک حالیہ سائنٹیفک پیپر کے مطابق خط استوا کے قریب کے خطے بین النجمی اجسام کے تصادم کے لیے زیادہ حساس ہیں۔

مزید پڑھیے: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت

تحقیق کے مطابق یہ مہمان اجسام کہکشاں کے دوسرے حصوں سے سفر کرتے ہیں اور زمین سے ٹکرانے کی صورت میں سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

تحقیق کی قیادت مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیریل سیلگمین نے کی جنہوں نے کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعےآئی ایس اوز کی ممکنہ حرکات اور راستے ماڈل کیے۔

مطالعے میں لکھا گیا ہے کہ اس تحقیق میں ہم زمین سے ٹکرانے والے بین النجمی اجسام کے متوقع مداری عناصر، زاویاتی سمتوں اور رفتاروں کا حساب لگاتے ہیں۔

مطالعے میں ایم ٹائپ ستاروں کی حرکیات کو بنیاد بنایا گیا

رپورٹس کے مطابق تحقیق میں ایم ٹائپ ستاروں (جنہیں ریڈ ڈوارف بھی کہا جاتا ہے) کے حرکیاتی نمونوں پر انحصار کیا گیا کیونکہ یہ ہماری کہکشاں میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ستارے ہیں۔

مزید پڑھیں: 10 کھرب سورجوں جتنی روشنی، اب تک کا سب سے طاقتور بلیک ہول دھماکا دریافت

محققین نے تسلیم کیا کہ یہ انتخاب کچھ حد تک فرضی ہے کیونکہ ISOs کی صحیح حرکیات اب تک واضح نہیں۔

شمالی نصف کرہ نسبتاً زیادہ خطرے میں

تحقیق سے معلوم ہوا کہ خط استوا کے قریب واقع علاقے تو سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں تاہم خطرے کا ایک معمولی جھکاؤ شمالی نصف کرہ کی جانب بھی ہے جہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی رہتی ہے۔

آئی ایس اوز 2 سمتوں سے زیادہ غالب آتے ہیں

مطالعے کے مطابق بین النجمی اجسام زیادہ تر دو سمتوں سے آنے کا امکان رکھتے ہیں سولر ایپکس وہ سمت جس جانب سورج کہکشاں میں حرکت کر رہا ہے اور گیلکٹک پلین کہکشاں کا وہ خط جس میں سب سے زیادہ ستارے موجود ہیں۔

کس موسم میں خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ رفتار والے ممکنہ تصادم بہار کے موسم میں ہو سکتے ہیں جب زمین سورج کی حرکت کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔

جبکہ مجموعی طور پر تصادم کا امکان سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے، جب زمین سولر ایپکس کی مخالف سمت کی طرف ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت

آئی ایس اسوز جب زمین کی جانب بڑھتے ہیں تو ان کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے سورج کی کشش ثقل ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایس او خلائی اجسام خلائی اجسام کا زمین سے ٹکرانا خلائی تحقیق دمدار ستارہ ناسا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایس او خلائی اجسام خلائی اجسام کا زمین سے ٹکرانا خلائی تحقیق دمدار ستارہ بین النجمی اجسام خلائی اجسام سب سے زیادہ کے مطابق ا ئی ایس ہوتی ہے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ