وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
سائنس دانوں نے زمین پر ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آنے والے خلائی اجسام کے ٹکرانے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟
نئی تحقیق میں ان اجسام کی ممکنہ رفتار اور زمین سے ٹکرانے کے زاویے وغیرہ کا حساب لگایا گیا ہے۔
رواں سال یکم جولائی کو دریافت ہونے والا پراسرار بین النجمی دُم دار ستارہ 3 آئی اٹلس پہلے ہی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی 2 بین النجمی اجسام— ’اوٗمواموا‘ (2017) اور بوریسوف (2019) ہمارے نظامِ شمسی کا دورہ کر چکے ہیں۔
اگرچہ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ 3 آئی اٹلس زمین کے لیے کسی بھی خطرے کا باعث نہیں تاہم اگر مستقبل میں کوئی آئی ایس او زمین سے ٹکرائے تو سائنس دانوں نے اس بات کی نشاندہی کر دی ہے کہ کن خطوں کو زیادہ دھچکا لگ سکتا ہے۔
کم عرض البلد کے قریب علاقے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیںایک حالیہ سائنٹیفک پیپر کے مطابق خط استوا کے قریب کے خطے بین النجمی اجسام کے تصادم کے لیے زیادہ حساس ہیں۔
مزید پڑھیے: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
تحقیق کے مطابق یہ مہمان اجسام کہکشاں کے دوسرے حصوں سے سفر کرتے ہیں اور زمین سے ٹکرانے کی صورت میں سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کی قیادت مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیریل سیلگمین نے کی جنہوں نے کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعےآئی ایس اوز کی ممکنہ حرکات اور راستے ماڈل کیے۔
مطالعے میں لکھا گیا ہے کہ اس تحقیق میں ہم زمین سے ٹکرانے والے بین النجمی اجسام کے متوقع مداری عناصر، زاویاتی سمتوں اور رفتاروں کا حساب لگاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تحقیق میں ایم ٹائپ ستاروں (جنہیں ریڈ ڈوارف بھی کہا جاتا ہے) کے حرکیاتی نمونوں پر انحصار کیا گیا کیونکہ یہ ہماری کہکشاں میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ستارے ہیں۔
مزید پڑھیں: 10 کھرب سورجوں جتنی روشنی، اب تک کا سب سے طاقتور بلیک ہول دھماکا دریافت
محققین نے تسلیم کیا کہ یہ انتخاب کچھ حد تک فرضی ہے کیونکہ ISOs کی صحیح حرکیات اب تک واضح نہیں۔
شمالی نصف کرہ نسبتاً زیادہ خطرے میںتحقیق سے معلوم ہوا کہ خط استوا کے قریب واقع علاقے تو سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں تاہم خطرے کا ایک معمولی جھکاؤ شمالی نصف کرہ کی جانب بھی ہے جہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی رہتی ہے۔
آئی ایس اوز 2 سمتوں سے زیادہ غالب آتے ہیںمطالعے کے مطابق بین النجمی اجسام زیادہ تر دو سمتوں سے آنے کا امکان رکھتے ہیں سولر ایپکس وہ سمت جس جانب سورج کہکشاں میں حرکت کر رہا ہے اور گیلکٹک پلین کہکشاں کا وہ خط جس میں سب سے زیادہ ستارے موجود ہیں۔
کس موسم میں خطرہ بڑھ جاتا ہے؟تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ رفتار والے ممکنہ تصادم بہار کے موسم میں ہو سکتے ہیں جب زمین سورج کی حرکت کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔
جبکہ مجموعی طور پر تصادم کا امکان سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے، جب زمین سولر ایپکس کی مخالف سمت کی طرف ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
آئی ایس اسوز جب زمین کی جانب بڑھتے ہیں تو ان کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے سورج کی کشش ثقل ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس او خلائی اجسام خلائی اجسام کا زمین سے ٹکرانا خلائی تحقیق دمدار ستارہ ناسا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس او خلائی اجسام خلائی اجسام کا زمین سے ٹکرانا خلائی تحقیق دمدار ستارہ بین النجمی اجسام خلائی اجسام سب سے زیادہ کے مطابق ا ئی ایس ہوتی ہے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔