اپنے بچوں کو قتل کرکے فرار ہونے والی ماں کی گرفتاری سے سزا تک کی حیران کن کہانی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
نیوزی لینڈ کی عدالت نے جنوبی کوریا میں پیدا ہونے والی ہاکیونگ لی کو اپنے دو کم سن بچوں کے قتل کے جرم میں سزا سنادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سفاک ماں نے 2018 میں اپنے 8 اور 6 سالہ بچوں کو دوا کی زیادہ مقدار دیکر جان بوجھ کر قتل کیا۔
قتل کے بعد ملزمہ نے بچوں کی لاشوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر سوٹ کیسوں میں رکھا اور ایک اسٹوریج لاکر میں چھوڑ دیا۔
بچوں کے بہیمانہ قتل سے ایک سال قبل ہی ملزمہ کے شوہر اور بچوں کے والد کا کینسر سے انتقال ہوگیا تھا۔
ان دونوں معصوم بچوں کی لاشیں قتل کے چار سال بعد 2022 میں اس وقت دریافت ہوئیں جب ایک خاندان نے آن لائن نیلامی سے اسٹوریج لاکر خریدا۔
جب اسٹوریج کو کھولا تو اس میں موجود سوٹ کیسوں میں انسان کی گلی سڑی باقیات تھیں۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔
بچوں کی باقیات ملنے کے بعد نیوزی لینڈ پولیس نے 2022 میں قتل کی تحقیقات شروع کیں لیکن تب تک ملزمہ آبائی ملک جاچکی تھی۔
جس پر نومبر 2022 میں نیوزی لینڈ نے جنوبی کوریا سے ملزمہ کی حوالگی کے لیے مقدمہ بھی کیا تھا۔
جس کے نتیجے میں ملزمہ ہاکیونگ لی کو جنوبی کوریا سے لاکر نیوزی لینڈ میں مقدمہ چلایا گیا۔
ملزمہ نے عدالت میں خود کو پاگل پن کا مریض قرار دیکر معافی کی درخواست کی تھی۔
ان کے وکیل نے بھی سزا کے تعین کی سماعت میں دفاعی دلیل دی کہ ملزمہ کی ذہنی حالت کے پیش نظر عمر قید ناانصافی ہوگی۔
تاہم پراسیکیوشن نے موقف اختیار کیا کہ قتل کے وقت ملزمہ کے خودکشی یا شدید ذہنی عدم توازن کے ثبوت موجود نہیں تھے۔
جج جیوفرے ویننگ نے کم سزا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتی تھیں کہ آپ کا جرم اخلاقی طور پر غلط تھے۔
جج نے مزید کہا کہ شاید آپ اپنے بچوں کو اپنی سابقہ خوشگوار زندگی کی یاد کے طور پر برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ کو عمر قید کی سزا دی جس میں 17 سال کی کم از کم غیر مشروط قید شامل ہے۔
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں 1989 سے موت کی سزا ختم کردی گئی ہے جس کے بعد سے عمر قید سب سے سخت سزا ہے۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ملزمہ کو پہلے ایک نفسیاتی مرکز میں علاج فراہم کیا جائے گا اور صحت یاب ہونے کے بعد واپس جیل بھیج دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ قتل کے کے بعد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔