ڈیٹا چوری، غیر رجسٹرڈ وی پی این ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سنگین ہیں، حکام
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) سرکاری حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا اور عوام سے کہا ہے کہ وہ ہرگز غیر رجسٹرڈ وی پی این استعمال نہ کریں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں، دہشت گرد، غیر ملکی ایجنٹ، جرائم پیشہ افراد اور شدت پسند اپنے وجود کو چھپانے کے لیے غیر قانونی وی پی این استعمال کر رہے ہیں، ان غیر رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی، افواہیں، پروپیگنڈا اور غیر قانونی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق ایسی سرگرمیوں سے پاکستان کا ہر شہری غیر محفوظ ہو جاتا ہے، اپنے ملک اور اپنی حفاظت کے لیے غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہرگز نہ کریں، صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این استعمال کریں۔
آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ مفت وی پی این دراصل آپ کا ڈیٹا چرا رہے ہیں، زیادہ تر مفت وی پی این محفوظ نہیں ہوتے، وہ آپ کو ہی پروڈکٹ بنا کر بیچتے ہیں، بہت سے غیر رجسٹرڈ وی پی این ہیکرز، غیر ملکی اداروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے کنٹرول میں ہوتے ہیں، آپ کے یوزرنیم، پاس ورڈ، بینک کی تفصیلات اور ذاتی معلومات لاگ کی جا رہی ہیں، یہ مفت سروس دراصل آپ کی پرائیویسی کی قیمت پر چلتی ہے۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق غیر رجسٹرڈ وی پی این خاموش چور ہیں جو آپ کی شناخت چرا رہے ہیں، ہمیشہ منظور شدہ اور لائسنس یافتہ وی پی این استعمال کریں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی وی پی این پورے ملک کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہے ہیں، وی پی این کے ذریعے قانونی گیٹ ویز بائی پاس ہو رہے ہیں، اربوں روپے کے ٹیکس اور فیس بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں، قومی خزانے کو شدید نقصان، عوامی سہولتوں کے لیے پیسہ کم پڑ رہا ہے۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق غیر قانونی وی پی این سے انٹرنیٹ پر بوجھ بڑھ رہا ہے، انٹرنیٹ کی رفتار سست، گھریلو صارف اور کاروبار دونوں متاثر ہوتے ہیں، کچھ لوگ تیز چلنے کے لیے وی پی این لگاتے ہیں، پورا ملک سست ہو جاتا ہے، غیر رجسٹرڈ وی پی این نہ صرف آپ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی، قانونی وی پی این استعمال کریں، محفوظ رہیں اور ملک کو محفوظ بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔