افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغان طالبان کی موجودہ رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 1873 دہشتگرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں۔ 4 نومبر 2025 سے اب تک کے 4910 آپریشنز میں 206 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاک افغان سرحد مشکل اور طویل ہے، اور اس کی مؤثر نگرانی دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی میں افغان طالبان کی سہولت کاری واضح ہے، اور سرحدی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں نے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان نے دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے اسلحہ و فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 اور 2025 میں 971,604 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا، صرف نومبر میں 239,574 افراد واپس گئے۔
بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کے بیانات حقیقت کے منافی ہیں اور وہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف زہریلا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا واحد طریقہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہے، جس کے لیے بلوچستان میں مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔