راولپنڈی(نیوز ڈیسک )پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی عسکری قیادت کے حالیہ دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ اور بیرونی پراپیگنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

ہندوستانی قیادت کی خود فریبی، افغان صورتحال، سوشل میڈیا پراپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اہم پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ
بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو ’’خود فریبی‘‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارت نے ایک “ٹریلر” دکھایا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ بیان حقیقت سے بالکل دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر اس نام نہاد ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملے ہو جائیں اور ایس-400 کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو بھارت کیلئے یہ ٹریلر نہیں بلکہ ایک خوفناک فلم ثابت ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سندور میں بھارتی ناکامی کے بعد مسلسل جھوٹے بیانات کا مقصد صرف اندرونی عوامی غصے کو کم کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی ملک افغان طالبان رجیم کو فوجی ساز و سامان فراہم کرتا ہے تو یہ بالآخر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہی جائے گا، جو خطے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان مخالف سوشل میڈیا مہم پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ پھیلانے والے بیشتر X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔ ’’پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور معاشرتی معاملات میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو سوشل میڈیا پاکستان کے اندر دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے دراصل بیرونی قوتیں سرگرم ہیں۔

دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ اس کا مستقل حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے مربوط نظام قائم کیا جا چکا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں اس نظام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

’’بلوچستان میں ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور امپلیمنٹیشن کمیٹیاں فعال ہو چکی ہیں۔‘‘

ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ یہ غیر قانونی کاروبار دہشت گردی کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آرمی، ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے یومیہ 20.

5 ملین لیٹر ایرانی ڈیزل پاکستان میں اسمگل ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر رہ گیا ہے۔
ان کے مطابق ڈیزل اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم براہ راست بی ایل اے اور BYC جیسے گروہوں تک پہنچتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے مؤثر نفاذ کے بعد بلوچستان کے 27 اضلاع پولیس کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، جو صوبے کے 86 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی فورسز مقامی آبادی سے مسلسل رابطے میں ہیں، ’’روزانہ 140 جبکہ ماہانہ 4000 کے قریب عوامی انگیجمنٹس ہو رہی ہیں اور یہ اقدامات دیرپا نتائج دے رہے ہیں۔‘‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان حکومتی اور سیکیورٹی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مربوط حکمت عملی اور عوامی تعاون کے باعث جلد صورتحال مزید بہتر ہوگی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر انہوں نے کے خلاف کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا