آپریشن سندور پر بھارت کے جھوٹے بیانات عوامی غصہ دبانے کی کوشش ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک )پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی عسکری قیادت کے حالیہ دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ اور بیرونی پراپیگنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
ہندوستانی قیادت کی خود فریبی، افغان صورتحال، سوشل میڈیا پراپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اہم پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ
بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو ’’خود فریبی‘‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارت نے ایک “ٹریلر” دکھایا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ بیان حقیقت سے بالکل دور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر اس نام نہاد ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملے ہو جائیں اور ایس-400 کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو بھارت کیلئے یہ ٹریلر نہیں بلکہ ایک خوفناک فلم ثابت ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سندور میں بھارتی ناکامی کے بعد مسلسل جھوٹے بیانات کا مقصد صرف اندرونی عوامی غصے کو کم کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی ملک افغان طالبان رجیم کو فوجی ساز و سامان فراہم کرتا ہے تو یہ بالآخر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہی جائے گا، جو خطے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستان مخالف سوشل میڈیا مہم پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ پھیلانے والے بیشتر X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔ ’’پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور معاشرتی معاملات میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو سوشل میڈیا پاکستان کے اندر دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے دراصل بیرونی قوتیں سرگرم ہیں۔
دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ اس کا مستقل حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے مربوط نظام قائم کیا جا چکا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں اس نظام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
’’بلوچستان میں ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور امپلیمنٹیشن کمیٹیاں فعال ہو چکی ہیں۔‘‘
ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ یہ غیر قانونی کاروبار دہشت گردی کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آرمی، ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے یومیہ 20.
ان کے مطابق ڈیزل اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم براہ راست بی ایل اے اور BYC جیسے گروہوں تک پہنچتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے مؤثر نفاذ کے بعد بلوچستان کے 27 اضلاع پولیس کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، جو صوبے کے 86 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی فورسز مقامی آبادی سے مسلسل رابطے میں ہیں، ’’روزانہ 140 جبکہ ماہانہ 4000 کے قریب عوامی انگیجمنٹس ہو رہی ہیں اور یہ اقدامات دیرپا نتائج دے رہے ہیں۔‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان حکومتی اور سیکیورٹی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مربوط حکمت عملی اور عوامی تعاون کے باعث جلد صورتحال مزید بہتر ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر انہوں نے کے خلاف کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔