دنیا بھر میں سافٹ ویئر مسئلے کا سامنا کرنے والے اے 320 طیارے، پاکستان میں استعمال محفوظ قرار
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کے مختلف ممالک میں ائیربس اے 320 طیاروں میں سامنے آنے والے سافٹ ویئر مسائل کے باوجود پاکستانی ائیر لائنز کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں زیرِ استعمال یہ طیارے محفوظ ہیں اور ان کی پروازوں میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
قومی اور نجی ائیر لائنز دونوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے بیڑوں میں شامل اے 320 جہاز سافٹ ویئر اپڈیٹ یا مخصوص پیچ کی عدم موجودگی کے باوجود آپریشنل طور پر مستحکم ہیں۔
پاکستان میں مختلف ائیر لائنز کے پاس مجموعی طور پر 47 ائیربس اے 320 طیارے موجود ہیں۔ قومی ائیر لائن کے حکام نے بتایا کہ پی آئی اے نے اپنے طیاروں میں فلائٹ کنٹرول سافٹ ویئر ELAC-L104 پیچ انسٹال نہیں کیا، اسی وجہ سے عالمی سطح پر رپورٹ ہونے والا مسئلہ ان کے جہازوں پر لاگو نہیں ہوتا اور تمام پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
نجی ائیر لائن کے ڈائریکٹر آپریشن کے مطابق ان کے بیڑے میں شامل 12 ائیربس اے 320 طیاروں کا سافٹ ویئر مکمل طور پر اپڈیٹ ہے اور انہیں کسی بھی آپریشنل خرابی کا سامنا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کی تین نجی ائیر لائنز کے پاس مجموعی طور پر 18 ائیربس طیارے موجود ہیں، اور ان میں سے کسی نے بھی سافٹ ویئر سے متعلق کوئی مسئلہ رپورٹ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ائیر لائنز سافٹ ویئر
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان