پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔سیکرٹری جنرل تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ وفاقی آئینی عدالت کے باہر پہنچے تو صحافی نے ان سے پوچھا کیا پی ٹی آئی نے آئینی عدالت کا بائیکاٹ نہیں کیا؟سلمان اکرم راجا نے کہا آئینی عدالت کے بائیکاٹ پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، پارٹی میں مشاورت کریں گے، عدالت اب قائم کردی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی کی قید تنہائی کے حوالے سے درخواست بھی لگنی ہے، فیصلہ کریں گے ایک عدالت کو ہم نہیں مانتے تو اس میں پیش ہونا ہے یا نہیں، ہم نے فیصلہ کرنا ہے لیکن تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مخالفت کی تھی اور ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا تھا۔27 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہی وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے جس کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان ہیں، آئینی عدالت صرف آئینی مقدمات پر سماعت کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آئینی عدالت کے سلمان اکرم فیصلہ نہیں پی ٹی آئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔