اسلام آباد:

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ پر پارٹی میں مشاورت کریں گے۔

الیکشن ٹریبونلز میں ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی کے خلاف اپیل  کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی نے سلمان اکرم راجا سے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے آئینی عدالت کا بائیکاٹ نہیں کیا؟، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آئینی عدالت کے بائیکاٹ پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس حوالے سے پارٹی میں مشاورت کریں گے۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت اب قائم کردی گئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی قید تنہائی کے حوالے سے درخواست بھی لگنی ہے۔ فیصلہ کریں گے کہ ایک عدالت کو ہم نہیں مانتے تو اس میں پیش ہونا ہے یا نہیں۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہے لیکن تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن میں  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پیش ہونے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ سہیل آفریدی آج الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، انہوں نے قانون کی اطاعت کی۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ہری پور انتخابات کے حوالے سے وائٹ پیپر جلد جاری  کریں گے۔ ہم قانون کی روح ٹٹولتے رہیں گے۔ علی بخاری نے الیکشن کمیشن کے سامنے اعتراضات رکھے، ہماری استدعا ہے کہ ہر فریق کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کسی کو کوئی دھمکی نہیں دی۔ افسران کو تنبیہ کرنا وزیراعلیٰ کا حق ہے۔ ہم اپنا تفصیلی جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں گے۔ الیکشن کمیشن  کو بتایا کہ ایسی ایک درخواست خیبرپختونخوا میں بھی زیر سماعت ہے، دو جگہوں پر ایک جیسی درخواست پر کاروائی نہیں ہوسکتی۔ ہم نے کسی صورت الیکشن کے عمل میں دخل اندازی نہیں کی۔ آئندہ وزیر اعلیٰ کو یہاں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا الیکشن کمیشن آئینی عدالت کریں گے

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا