’عمران خان سے ملاقات کےلیے ہدایت دینا ہمارا کام نہیں‘، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا وکیل سے مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے ہدایات دینا ہمارا کام نہیں ہے، جس عدالتی فورم نے سزا دی ہے ان سے رجوع کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ ججز ٹرانسفر کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی انٹراکورٹ اپیل عدم پیروی پر خارج کردی۔
کراچی بار کی اپیل بھی عدم پیروی پر خارج جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل کو وقت فراہم کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی عدالت نے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر و دیگر ججز کے تبادلوں کو درست قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔
بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی ،جسٹس علی باقر نجفی،جسٹس کے کے آغا خان ،جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔
سماعت کا آغاز ہوا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کے وکیل منیر اے ملک پیش نہ ہوا، وفاقی آئینی عدالت نے عدم پیروی پر ہائی کورٹ ججز کی اپیل خارج کردی۔
کراچی باراور اسلام آباد بار کے سابق صدر کے وکیل فیصل صدیقی بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے انکی انٹرا کورٹ اپیل بھی عدم پیروی پر خارج کردی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان تو پیش نہ ہوئے تاہم انکے معاون وکیل اجمل طور عدالت میں پیش ہوئے اور کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی.
عدالت نے لاہور ہائی کورٹ اور لاہور بار ایسوسی ایشن کی حد تک انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ میرے موکل اڈیالہ جیل میں قید ہے، ان سے ہدایات لینی ہیں، ہم نے شارٹ آرڈر کو چیلنج کیا تھا، اب تفصیلی وجوہات کے بعد اضافی گزارشات فائل کرنی ہیں جس کیلئے ہدایات درکار ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت حکم دے تاکہ میں ہدایات لے سکوں، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت نے کہا جس عدالت نے سزا دی ہو، وہی عدالت دے سکتی ہے، ہم ہدایات نہیں دے سکتے، عمران خان کے وکیل ادریس اشرف نے کہا مجھے وقت فراہم کیا جائے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انھیں ہدایات لینے کیلئے وقت دیدیا۔
دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے مکمل انصاف کی فراہمی کے آرٹیکل 187 کے استعمال کی استدعا کرتے ہوئے کہا وفاقی آئینی عدالت مکمل انصاف کی فراہمی کے آرٹیکل 187 کا استعمال کرے تاکہ میں بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لے سکوں۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا یہ ہمارا کام نہیں ہے، جس عدالتی فورم نے سزا دی ہے ان سے رجوع کریں. آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو مہلت فراہم کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بانی پی ٹی آئی کے وکیل لاہور ہائی کورٹ بار وفاقی آئینی عدالت آئینی عدالت نے عدم پیروی پر اسلام آباد کرتے ہوئے کورٹ اپیل
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔