گوگل نے یکم دسمبر 2025 کو ایک خوبصورت اور دلکش ڈوڈل جاری کردیا۔

گوگل کا یہ ڈوڈل روایتی سالانہ تہواروں کی نشاندہی کرتا ہے جو دنیا بھر میں رواں ماہ منائے جائیں گے اور اسے گوگل نے ’’Seasonal Holidays 2025‘‘ کا نام دیا ہے۔

یہ ڈوڈل ہر سال دسمبر میں منائے جانے والے عالمی تہواروں بشمول کرسمس، ہنوکاہ، کوانزا اور سالِ نو کی ترجمانی کرتا ہے۔

اس ڈوڈول کو اس طرز پر بنایا گیا ہے جس سے جشن منانے کا تاثر ظاہر کرنے کے لیے برقی قمقموں کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس ڈوڈل کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی مذہب کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ عالمی ہمہ گیریت کو اجاگر کرتا ہے جس سے اتحاد، اتفاق اور بھائی چارے کا پیغام جاتا ہے۔

یہ ڈوڈل عموماً پورے دسمبر کے دوران دکھایا جاتا ہے یا مختلف تہواروں کے موقع پر وقفے وقفے سے سامنے آتا رہتا ہے۔

یاد رہے کہ گوگل کا پہلا ڈوڈل 1998 میں اس وقت سامنے آیا جب بانی لیری پیج اور سرگی برن نے برننگ مین فیسٹیول کے دوران "آؤٹ آف آفس" پیغام دینے کے لیے گوگل لوگو میں معمولی تبدیلی کی تھی۔

بعد ازاں یہ ڈوڈلز وقت کے ساتھ ساتھ اور جدت کو اپناتے ہوئے دنیا بھر کے ہیروز، ثقافتوں، واقعات اور تاریخی مواقع کو خراج تحسین پیش کرنے کی شکل اختیار کرکیا گیا۔

اس حوالے سے سنہ 2000 میں پہلا انٹرنیشنل ڈوڈل باسٹیل ڈے کے موقع پر فرانس کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

اسی طرح سنہ 2000 میں ہی ہالووین ڈوڈل میں پہلی بار اینیمیشن شامل کی گئی جو بعد میں گوگل ڈوڈلز کی مستقل خصوصیت بن گئی۔

یاد رہے کہ "K-12" طلبا میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے “Doodle for Google” مقابلہ شروع کیا گیا، جو اب دنیا کا طویل ترین جاری رہنے والا گوگل مقابلہ بن چکا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ