ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی دہلی کار بم دھماکہ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے، جس میں عرفان احمد کے کردار کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میں بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے آج صبح ایک کارروائی انجام دیتے ہوئے نادی گام علاقے میں عرفان احمد مولوی کے رہائشی مکان پر چھاپہ مارا۔ ذرائع کے مطابق این آئی اے کی خصوصی ٹیم علی الصبح شوپیان پہنچی اور عرفان مولوی کے گھر کی تلاشی لی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی دہلی کار بم دھماکہ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے، جس میں عرفان احمد کے کردار کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاہم چھاپے کے دوران کیا کچھ ضبط کیا گیا، اس بارے میں اب تک سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ عرفان احمد، نادی گام شوپیان کے رہائشی ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق دہلی کار بم دھماکہ کیس میں انہیں ایک اہم کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عرفان احمد کا رول مبینہ منصوبہ بندی، رابطے اور دھماکہ خیز مواد کی فراہمی تک پھیلا ہوا تھا، جس کے باعث ایجنسی نے ان کے گھر سے مزید شواہد حاصل کرنے کے لئے یہ کارروائی انجام دیا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی اس کیس کی مختلف پہلوؤں سے جانچ کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید چھاپوں یا گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ این آئی اے کی جانب سے کارروائی مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ پریس بیان جاری نہیں ہوا ہے۔ این آئی اے نے شوپیاں کے علاوہ پلوامہ میں بھی چھاپہ مار کاروائیاں انجام دی۔ اس دوران جانچ ایجنسی نے چندگام، کوئل، ملنگ پورہ اور سمبورہ میں دہلی دھماکہ معاملے میں مشتبہ افراد کے گھروں کی تلاشی لی اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ اس کے علاوہ موبائل فونز اور دیگر چیزوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔

یہ چھاپہ مار کارروائی ضلع پلوامہ میں آج علی الصبح ہی شروع ہوئی اور پولیس و سی آر پی ایف کی مدد سے انجام دی گئی۔ تحقیقات ایجنسی نے ان چھاپوں کے دوران پلوامہ کے سمبورہ میں عامر رشید، ملنگ پورہ میں عامر احمد راتھر، کوئل میں ڈاکٹر مزمل شکیل اور ان کے بہنوئی فیضان احمد صوفی ولد فاروق احمد صوفی ساکن چندگام کے گھروں کی تلاشی لی۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی دھماکہ معاملے میں تقریبا 15 لوگوں کی جان چلائی گئی۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ضلع پلوامہ کے ایک ڈاکٹر سمیت اور ایک شخص کو حراست میں لیا گیا تھا، بعد ازاں ہریانہ کے فرید آباد سے بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ اور دھماکہ خیز مواد ضبط کیا گیا۔

واضح رہے کہ دہلی لال قلعہ کار دھماکے کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد ہے۔ اس سلسلے میں این آئی اے ملک بھر میں چھاپے مار رہی ہے۔ دھماکے کے کلیدی ملزم ڈاکٹر محمد عمر کے فون کالز اور روابط کی بنیاد پر متعدد لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ گذشتہ دنوں اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں بھی چھاپے مارے گئے اور ایک مسجد کے امام سمیت دیگر افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے 27 نومبر کو شوپیان اور اننت ناگ سمیت میں مختلف مقامات پر چھاپے مار کاروائیاں انجام دیں۔ یہ چھاپے جماعت اسلامی کشمیر سے منسلک مقامات پر مارے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہلی کار بم دھماکہ عرفان احمد آئی اے سلسلے میں رہی ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست