مریم نواز شریف پہلی بار پنجاب کے اضلاع پبلک ٹرانسپورٹ کے انقلابی فیز میں
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پنجاب کے 19 اضلاع میں 1362 جدید ، پائیدار اور خوبصورت بس شیلٹرز بنائے جائیں گے وزیر اعلی مریم نواز شریف کی صدرت اجلاس،اضلاع میں بس شیلٹرز کے قیام کی ڈیڈ لائن طے --شیلٹرز کا ڈئزائن بھی منتخب پر سکون اور باعزت سفر کی سہولت کے لئے بس شیلٹرز 45 سے 60 دنوں میں مکمل ہونگے وزیر اعلی مریم نواز شریف نے تمام بس شیلٹرزمقررہ ایام میں مکمل کرنے کا ٹارگٹ دے دیا پنجاب بھر میں 588 بس شیلٹرز کے قیام پر تیزی سے کام شروع ،774 بس شیلٹرز کا ٹینڈر جاری بزرگ ، مائیں اور دیگر شہری دھوپ یا سخت سردی میں انتظار کرنا برداشت نہیں -مریم نواز شریف پہلی بار پنجاب کے اضلاع پبلک ٹرانسپورٹ کے انقلابی فیز میں ہے-مریم نواز شریف خوبصورت اور جدید بس شیلٹرز سہولت کے ساتھ شہروں کے حسن میں بھی اضافہ کریں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف بس شیلٹرز
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔