لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی اور ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس سلطان تنویر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی فائل کسی اور بینچ میں بھجوانے کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دی۔جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ میں نے اس سے متعلقہ ایک درخواست کو سنگل بینچ میں سنا ہوا ہے۔ 

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی 3 بینچز کیس سننے سے معذرت کر چکے ہیں۔

کراچی: بیٹی کے سکول بیگ میں منشیات سمگل کرنیوالی خاتون گرفتار

 حسان نیازی نے اپنے وکیل فیصل صدیقی کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 9 مئی کیس میں گرفتاری کے بعد سویلین عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار نے کہا کہ تھانہ سرور روڈ پولیس نے میری کسٹڈی ملٹری کو دے دی، کسی عدالتی حکم کے باوجود غیرقانونی طور پر مجھے ملٹری کے حوالے کیا گیا۔

حسان نیازی کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مجھے ملٹری کسٹڈی میں لینے کا کمانڈنگ آفیسر کا 17 اگست 2023 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، لاہور ہائی کورٹ جیل سے رہا کرنے یا انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے۔

بی این پی کا پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کا خالدہ ضیاء کی  جلد صحت یابی کیلیے خط ،   بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا اظہار تشکر

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: حسان نیازی

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار