اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر لیا گیا۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بنچ 5 دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔ واضح رہے کہ شریعت اپیلیٹ بنچ کم و بیش ڈیڑھ سال بعد تشکیل دیا گیا۔ انتخابی نظام غیراسلامی قرار دینے کی درخواست 36سال قبل دائر ہوئی تھی۔ شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے 1989ء میں اپیلیں دائر کی تھیں۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس یکم دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس یکم دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان کیس کی سماعت کریں گے۔ سپریم کورٹ نے کیس قابل سماعت ہونے کا معاملہ پہلے طے کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ واضح رہے کہ 25 نومبر کو کیس سماعت کے لئے مقرر تھا لیکن بغیر کارروائی کے ملتوی ہوگیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر
  • انتخابی نظام  کو غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ برسوں بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • 9 مئی مقدمات:اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی 10 سال کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
  • 9 مئی کے مقدمات: اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید کی 10 سال کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا
  • دہلی اور اسکے اطراف میں بدترین فضائی آلودگی، معاملہ پر غور کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
  • جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس یکم دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر