ماورائے عدالت قتل روکنے کیلئے پولیس کی موثر نگرانی ناگزیر : سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تشدد، غیر انسانی و توہین آمیز سلوک اور ذاتی وقار کی پامالی کسی صورت جائز نہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کیخلاف 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بعض اوقات پولیس کی جانب سے تشدد ماورائے عدالت قتل کا باعث بنتا ہے، کیوں کہ وہ استثنی کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس عمل کو روکنے کیلئے پولیس فورس پر موثر اور خصوصی نگرانی ناگزیر ہے، زندگی کے حق کو سب سے اعلی انسانی حق قرار دیا گیا ہے، اور آئین ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ ریاست ہر شہری کے حقِ زندگی کا تحفظ کرے، حراستی تشدد اور قتل کو روکے۔فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد، ماورائے عدالت قتل کیخلاف یہ آئینی ضمانتیں قانونی اصولوں کی اساس ہیں، غیر قانونی حراست اور تشدد کسی بھی صورت میں پسندیدہ ہیں نہ قابلِ جواز۔جسٹس جمال خان مندوخیل کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کا اصول ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کو یقینی بنانا ہے، پولیس فورس آئین میں درج بنیادی حقوق کے فریم ورک کو برقرار رکھنے کی پابند ہے، پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جب کوئی سرکاری اہلکار قانون پر عمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچاتا ہے، تو اس سے شفاف ٹرائل کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے، پولیس کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن گرفتاری آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف گرفتاری، غیر انسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا نہ صرف مجرمانہ فعل ہے، بلکہ یہ فعل مس کنڈکٹ میں بھی شمار ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور تشدد کے ذریعے درخواست گزاران نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی، درخواست گزاران کا یہ عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے، پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کی محکمانہ کارروائیاں ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔عدالت نے ملزمان کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کردیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 کسی شخص کی گرفتاری اور حراست کے حوالے سے حفاظتی ضمانتیں فراہم کرتا ہے، کوئی بھی گرفتار شخص گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا، گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق انسان کی عزتِ نفس اور گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں ہوسکتی۔عدالت عظمی نے یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر جاری کیا، تینوں افراد پر زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے، اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ کارروائی کے فیصلے کیخلاف پنجاب سروس ٹربیونل سے درخواست گزاروں نے رجوع کیا تھا، پنجاب سروس ٹربیونل نے انکی نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے کیس سنا تھا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ماورائے عدالت قتل سپریم کورٹ کے فیصلے نوکری سے شخص کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: 3 طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن مکمل ہونے تک مؤثر نہیں
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ تین طلاق یا کسی بھی طلاق کا اطلاق تب تک مؤثر نہیں ہوگا جب تک کہ 90 دن کی قانونی مدت پوری نہ ہو جائے۔
عدالت کے فیصلے میں جسٹس محمد شفیع صدیقی نے لکھا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کے لیے 90 روزہ انتظار لازمی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر خاوند نے بیوی کو بلا شرط طلاق کا حق دیا ہے تو بیوی کو بھی طلاق واپس لینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
یہ فیصلہ محمد حسن سلطان کی سول پٹیشن کے سلسلے میں آیا، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے 7 اکتوبر 2024 کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔
واقعے کی تفصیل کے مطابق فریقین کی شادی 2016 میں ہوئی تھی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا گیا تھا۔ بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7(1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 10 اگست 2023 کو 90 دن مکمل ہونے سے پہلے طلاق واپس لے لی، جس کے بعد یونین کونسل/ثالثی کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، قانون کے تحت بیوی کو دیا گیا حقِ طلاق “بلا شرط” اور مکمل ہے، مگر 90 دن کی قانونی مدت مکمل ہونے سے پہلے طلاق کا اطلاق مؤثر نہیں ہوتا۔