لاہور:

لاہور میں وردی کا رعب، سوشل میڈیا کی شہرت اور یوٹیوبرز کی شرارتیں اس وقت ایک خطرناک مرکب بن گئیں جب مشہور یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں باوردی پولیس اہلکار اس کے پرینک شو کا حصہ بنتے نظر آئے۔

یوٹیوبر نے اپنے دوستوں پر سنسنی خیز پرینک کرنے کی ٹھانی اور اس مقصد کے لیے ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی کھیل میں شامل کر لیا۔

حیران کن طور پر اہلکار یوٹیوبر کے کہنے پر فوراً کاروائی میں شریک ہوگئے اور اس کے ساتھ اس کے دوستوں کے فلیٹ تک پہنچ گئے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوٹیوبر نے اہلکاروں کو کہا کہ میرے بھائی اور دوستوں کے فلیٹ پر ریڈ کرو اور انہیں تھپڑ مارو اور باوردی اہلکار واقعی اس ہدایت پر عمل کرتے بھی نظر آئے۔

پولیس اہلکار نہ صرف نوجوانوں پر جھوٹی جوا بازی کا الزام لگاتے رہے بلکہ انہیں تھانے لے جانے کی دھمکیاں دے کر ہراساں بھی کیا۔

 یوٹیوبر پورے واقعے کی ویڈیو بناتا رہا جبکہ اہلکار اس کے اسکرپٹ کے مطابق حرکتیں کرتے رہے۔

اسلحہ اٹھائے پولیس اہلکاروں کی اس پرینک ٹیم میں شمولیت نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو تیزی سے وائرل ہے اور عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا وردی کا وقار اب یوٹیوبرز کی ریٹنگز کے لیے استعمال ہوگا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس اہلکار

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور