بحیرہ اسود میں یوکرین کے ڈرونز حملوں روسی ٹینکرز تباہ، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بحیر اسود میں روسی شیڈو فلیٹ کے 2 آئل ٹینکرز، Virat اور Kairos، ہفتہ اور جمعہ کو غیر انسانی سمندری ڈرونز اور دھماکوں کے ذریعے شدید نقصان کا شکار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
ترک حکام کے مطابق، جمعہ کی رات کو Kairos، جو گیمبیا کے پرچم تلے Novorossiysk روسی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا، 28 ناٹیکل میل (51 کلومیٹر) ترک ساحل سے دور، ’خارجی اثرات‘ کے باعث آگ پکڑ گیا۔ ٹینکر کے عملے کے تمام 25 افراد کو ترک کوسٹ گارڈ نے محفوظ طور پر نکال لیا۔
اس کے علاوہ گیمبیا کے پرچم تلے چلنے والے ٹینکر Virat نے جمعہ کی شب پہلے دھماکے برداشت کیے تھے اور ہفتہ کی صبح اسے دوبارہ غیر انسانی سمندری ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ای ایف پی کے مطابق یوکرین نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سیکیورٹی سروس آف یوکرین (SBU) اور یوکرین نیوی نے مل کر یہ حملہ انجام دیا اور جدید Sea Baby نیول ڈرونز کے ذریعے دونوں ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ روس کی آئل ٹرانسپورٹ پر ایک سنگین دھچکہ ہے، اور ٹارگٹ کیے گئے جہاز تقریباً 70 ملین ڈالر کے تیل لے جا سکتے تھے۔
مغربی پابندیوں کے تحت ٹینکرز
دونوں ٹینکرز مغربی پابندیوں کے تحت تھے کیونکہ انہوں نے روسی تیل کی ترسیل کی تھی، جو یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ یوکرین نے عالمی سطح پر روس کی شیڈو فلیٹ پر سخت اقدامات کی بھی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ بحیرہ اسود (بلیک سی) میں یہ کشیدگی روس اور یوکرین کے درمیان بحری تناؤ کے دوران بڑھتی جا رہی ہے، اور سمندر میں تیرتے ہوئے مائنز نے بھی متعدد خطوں کو متاثر کیا ہے، حتیٰ کہ بوسفورس تک۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحیرہ اسود بلیک سی ترکیہ ڈرون حملہ روس یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلیک سی ترکیہ ڈرون حملہ یوکرین
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز