یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر مبینہ ڈرون حملہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
یوکرین کی فوج نے مبینہ طور پر 29 نومبر کو جنوبی روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک پر ڈرون حملہ کیا ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق روسی خطے کراسنوڈر کیرائی میں افپسکی آئل ریفائنری پر حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم کیف نے اس حملے کے حوالے سے فوری طور تصدیق نہیں کی ہے جبکہ یوکرین کی فوج نے بھی ابھی تک اس مبینہ حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
فرنٹ لائن علاقوں کے قریب ہونے کیوجہ سے ایفیپسکی آئل ریفائنری یوکرین جنگ میں کیف کی جانب سے حملوں کا باقاعدہ ہدف رہی ہے۔ ریفائنری پر اس سے پہلے 26 ستمبر کو اور اگست میں دو بار حملہ کیا جاچکا ہے۔
Afipsky, oil refinery got attacked tonight pic.
— Exilenova+ (@Exilenova_plus) November 29, 2025
افپسکی ریفائنری، جو فرنٹ لائن سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، روسی افواج کو ڈیزل ایندھن اور مٹی کے تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتی ہے ۔
یہ روس کے صاف تیل کی پیداوار کا 2.1 فیصد ہے، جو ہر سال تقریباً 6.25 ملین ٹن تیل کی پروسیسنگ کرتا ہے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
تاجکستان کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے ڈرون حملہ؛3چینی باشندے ہلاک
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دوشنبہ: تاجکستان کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تاجکستان کی سرحد میں استقلال پوسٹ کی حدود میں قائم مزدوروں کے کیمپ پر افغانستان سے ڈرون حملہ ہوا جس میں تین چینی باشندے ہلاک ہوگئے۔
وزارتِ خارجہ تاجکستان کے مطابق 26 نومبر کی رات کو افغانستان کی حدود سے حملہ کیا گیا جس میں گرنیڈ اور اسلحہ لگا ڈرون استعمال ہوا جس میں ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے تین چینی باشندے مارے گئے۔مزدوروں کا یہ کیمپ ’یول‘ بارڈر ڈٹachment کے علاقے میں فرسٹ بارڈر گارڈ پوسٹ ’استقلال‘ کے کنٹرول میں واقع تھا۔
تاجک حکام نے بتایا کہ وہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، لیکن افغانستان میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے امن کے لیے خطرات مسلسل جاری ہیں۔
تاجکستان نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گرد گروپوں کے ان اقدمات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور افغان حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحد پر امن اور استحکام کو یقینی بنائیں۔
تاجک وزارتِ خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا کہ دونوں ہمسائیوں کے سرحد کی سیکیورٹی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔