data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ضلع بنوں  میں سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے مضبوط گروہ کو نشانہ بنایا، جس میں 22 دہشت گرد مارے گئے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ کارروائی 24 نومبر کو اس وقت شروع ہوئی جب حساس اداروں کی خفیہ اطلاعات پر پتا چلا کہ علاقے میں ایسے عناصر چھپے بیٹھے ہیں جو نہ صرف مقامی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں بلکہ بیرونی ایجنسیوں، خصوصاً بھارتی خفیہ نیٹ ورک کی پشت پناہی سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں منظم کر رہے ہیں۔

آپریشن کے آغاز پر فورسز نے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانے کا گھیراؤ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

کئی گھنٹوں پر محیط اس کارروائی میں سیکورٹی اہلکاروں نے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ یہ تمام دہشت گرد بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے جو سرحد پار سے مالی و عسکری معاونت حاصل کر رہا تھا۔

کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن فوری طور پر شروع کیا گیا تاکہ کسی بھی روپوش دہشت گرد کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔

پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق فیڈرل ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کے تحت جاری انسدادِ دہشتگردی مہم کو پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے تحت یہ کارروائیاں پاکستان سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔

ترجمان کے مطابق دشمن عناصر ملک میں خوف و بے یقینی پھیلانے کے اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور ریاست تمام وسائل کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتی رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا