افواجِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حالیہ قانون سازی کے بعد دفاعی ڈھانچے میں آنے والی نئی تبدیلیوں کے باعث فوج کی کمان میں کوئی خلا یا رکاوٹ نہیں ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بدستور مکمل اختیار اور کمان کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔پیر کو پاکستانی فوج کے زیر استعمال ‘ایکس’ اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری ہوا ، جس میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے نئے عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے کسی قسم کی قانونی مدت کا تعین نہیں کیا گیا، لہٰذا اس عمل میں تاخیر سے نہ کوئی آئینی بحران پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے۔مذکورہ ایکس اکاؤنٹ سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے آفیشل اپڈیٹس جاری کی جاتی ہیں۔ تاہم، سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کے حوالے سے حالیہ پوسٹ پر آئی ایس پی آر نے کو باضابطہ کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

واضح رہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جو اختیارات اور استثنا حاصل ہے وہ برقرار رہیں گے، اور آرمی چیف کی نئی مدتِ ملازمت نئے عہدے کے ساتھ اس وقت شروع ہوگی جب حکومت باقاعدہ طور پر سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔یعنی قانون کے مطابق جیسے ہی یہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا، آرمی چیف کی نئی پانچ سالہ مدت اسی دن سے دوبارہ شروع تصور کی جائے گی۔ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کو ختم کرکے اس کی جگہ ”کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ“ کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے، جو مستقبل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت کام کرے گا۔ اس عہدے پر تقرری، دوبارہ تقرری اور عہدہ رکھنے والے افسر کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ مکمل طور پر وزیر اعظم کریں گے، جو عدالتی نظرِ ثانی سے محفوظ ہوگا۔حکومت نے اس نئے دفاعی نظام کو پاکستان کی مسلح افواج میں ”مشترکہ منصوبہ بندی، بہتر ہم آہنگی، اور جدید دفاعی حکمت عملی“ کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، حالانکہ نوٹفکیشن کے اجرا پر عمل شروع ہو چکا ہے اور وزیر اعظم جلد وطن واپس آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن مناسب وقت پر جاری کر دیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کی افواہوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سی ڈی ایف چیف آف

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع