ملکی سلامتی پر حملہ برداشت نہیں،پی ٹی آئی کاہدف ریاست اورمسلح افواج ہیں،احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو ماضی میں معرکہ حق میں دشمنوں کے ساتھ کیا تھا۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملک کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالے یا انتشار اور فساد کو ہوا دے۔
وفاقی وزیر کے مطابق آج ایک سیاسی جماعت اپنی سیاست چمکانے کے لیے پاکستان کے دشمنوں کی آواز میں آواز ملا رہی ہے اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بھارت اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بیانیے کا ہدف ریاستِ پاکستان اور مسلح افواج ہیں، جبکہ پاکستانی عوام ملک میں استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے جس طرح اقدامات کیے گئے وہ خطے کے کسی اور ملک میں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پنجاب نواز شریف کے ترقیاتی مشن پر عمل کرتے ہوئے ہر محاذ پر عوام کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
" دو سو میگاواٹ بجلی ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے" احسن اقبال کا بیان شدید تنقید کی زد میں
گزشتہ روز گلگت میں نون لیگ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے جہاں اپنے کارنامے گنے وہاں انہوں نے یہ حیران کن دعویٰ بھی کر دیا کہ جی بی میں دو سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ "دو سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے" وفاقی وزیر احسن اقبال کا یہ بیان گلگت بلتستان میں موضوع سخن بنا ہوا ہے اور شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز گلگت میں منعقدہ نون لیگ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے جہاں اپنے کارنامے گنے وہاں انہوں نے یہ حیران کن دعویٰ بھی کر دیا کہ جی بی میں دو سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ وفاقی وزیر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تنقہد اور میمز کا طوفان ہے اور سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ جی بی میں اس وقت اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، بجلی کی پیداوار طلب سے دو گنا کم ہے۔ سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے احسن اقبال کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر صرف پچاس میگاواٹ ہی بنا کر دیں تو گلگت، سکردو میں لوڈشیڈنگ کا مستقل عذاب ختم ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جی بی میں لوڈشیڈنگ ایک مستقل مسئلہ رہی ہے، گلگت، سکردو، ہنزہ اور چلاس شہروں میں بجلی کا بحران کئی سالوں سے جاری ہے جو حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ سردیوں میں سکردو شہر میں بیس گھنٹے، گلگت میں اٹھارہ گھنٹے، چلاس میں پندرہ اور ہنزہ میں بائیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔