Express News:
2026-06-03@04:26:37 GMT

حافظ نعیم الرحمن کا ایجنڈا

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ایک بڑے دعوے کے ساتھ منعقد ہوا کہ 'بدل دو نظام کو' یہ خواہش اور مطالبہ صرف جماعت اسلامی کا مطالبہ نہیں بلکہ قوم کے دل کی آواز ہے۔ نظام کیسے بدلے گا؟ اس سوال پر گفتگو ضروری ہے لیکن جماعت اسلامی کا حالیہ اجتماع بہ جائے خود ایک واقعہ ہے جس پر گفتگو ہونی چاہیے۔

اجتماع عام کی روایت شاید جماعت کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی تاہم قیام پاکستان کے بعد 1963 کا اجتماع جماعت کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ایوبی آمریت کے غنڈوں نے حملہ کیا اور جماعت کے ایک کارکن اللہ بخش شہید ہو گئے۔ جلسے پر فائرنگ اس وقت ہوئی جب جماعت کے بانی اور امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تقریر کر رہے تھے۔ فائرنگ شروع ہوئی تو مولانا کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ بیٹھ جائیے۔ اس مشورے پر انھوں نے وہ تاریخی جملہ کہا جو تاریخ کے تذکروں میں سنہری حروف میں جگمگا رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا تھا: ' میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا۔'

لہٰذا گولیاں چلتی رہیں اور مولانا مودودی ؒتقریر کرتے رہے۔

 جماعت کی تاریخ میں 1963 کا اجتماع جیسے تاریخ ساز ہے، بالکل اسی طرح حالیہ اجتماع بھی یاد رکھا جائے گا کیوں کہ اس موقع پر بھی کئی نئے رجحانات قائم ہوئے ہیں جیسے اس میں خواتین نے اس میں نہ صرف بہت بڑی تعداد میں شرکت کی بلکہ ان کا ایک خصوصی سیشن بھی ہوا جس میں سارا اسٹیج خواتین کے سپرد کر دیا گیا یہاں تک کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی خطاب کے بعد اسٹیج سے چلے گئے۔ میرے عزیز ترین دوست اور بزرگ ماہر اقبالیات پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحب زادے پروفیسر نعیم طاہر ملک کے مطابق کسی سیاسی جماعت میں یہ خواتین کو امپاور کرنے کی منفرد اور سب سے بڑی مثال ہے۔

اس اجتماع کی ایک خاص بات اس کی غیر معمولی حاضری ہے۔ اعداد و شمار کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر اس کی بھرپور حاضری کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان سے مندوبین اتنی بڑی تعداد میں آ گئے تھے کہ پہلے لاہور اور اس کے بعد پنجاب کے مندوبین سے کہا گیا کہ وہ ان کے لیے جگہ خالی کر دیں اور اپنے قیام کا بندوبست خود کریں۔

ذرایع ابلاغ نے اجتماع عام کی بھرپور حاضری پر بہت فوکس کیا ہے لیکن ایک پہلو تشنہ رہ گیا۔ یہ پہلو ایسا ہے جس کا تعلق قومی یک جہتی اور پاکستان کی نظریاتی اساس سے وابستہ ہے۔ اجتماع کے آغاز میں شرکا نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں قومی ترانہ پڑھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اگر پیشگی بندوبست کر لیا گیا ہوتا تو یہ واقعہ ضرور گنیز بک کے ریکارڈ میں شامل ہو جاتا۔

 حافظ نعیم الرحمن کا تعلق جنریشن زی سے تو نہیں لیکن وہ نئے دور کے تقاضوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی بننے سے قبل جب وہ کراچی میں تھے، انھوں نے کمیونیکیشن کے جدید ذرایع کو نہایت مہارت سے استعمال کر کے اپنے مقاصد کی طرف پیش رفت کی کوشش کی ہے۔

اجتماع عام کے موقع پر ان کی قیادت میں قومی ترانے کا پڑھا جانا بھی ایسا ہی واقعہ ہے جس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جماعت کے وابستگان خواہ ملک کے کسی حصے میں بھی بستے ہوں، پاکستان حقانیت اور سلامتی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی نظریاتی جہت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے۔ قومی ترانہ اس کی سب سے بڑی علامت ہے جس پر توجہ دے کر حافظ نعیم الرحمن نے نئی روایت قائم کی ہے۔

اسی طرح اجتماع عام کا نعرہ ہے یعنی بدل دو نظام کو۔ یہی خواہش اور آدرش ہے جس کی جستجو میں قوم نے سیاست کے کئی ذائقے چکھے ہیں۔ حال ہی میں یہ قوم تبدیلی کی آرزو میں ہی جاں گسل تجربے سے گزری ہے جس کے نتیجے میں یہ ملک اقتصادی دیوالیہ پن عالمی تنہائی کا شکار ہوا اور اس کا معاشرتی تار و پود بکھر کر رہ گیا۔ یہ سب کرنے والی قوتیں اب کہیں پڑی ہانپ رہی ہیں لیکن تبدیلی کی آرزو برقرار ہے۔ جماعت اسلامی اگر نظام کو بدلنے کی بات کرتی ہے تو اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ اگر مگر بھی ہیں۔

 اگر مگر یہ ہیں کہ جماعت نے قیام پاکستان سے اب تک کئی تجربے کیے ہیں۔ ان تجربوں کا حاصل ایک محاورے میں بیان کیا جا سکتا کہ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں۔ تجربات کی اس تلخی کے بعد ہی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ تنہا اڑان بھرے گی، کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ درست ہو گا لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جماعت کے پیغام اور عوام کے درمیان کوئیNoiseہے۔

ابلاغی سائنس میں نوائز اس رکاوٹ کو کہا جاتا ہے جو پیغام کی ترسیل اور اثر انگیزی میں رکاوٹ پیدا کرے۔ یہی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے جماعت اسلامی پاور پالیٹکس میں صف اول کی اسٹیک ہولڈر نہیں بن سکی۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے، اس پر جماعت نے کب غور شروع کیا، یہ معلومات تو دست یاب نہیں ہیں البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قاضی حسین احمد مرحوم اس بارے میں ہمیشہ فکر مند رہے ہیں۔جماعت اسلامی کی قیادت حافظ نعیم الرحمن کی صورت میں تیسری نسل کو منتقل ہو چکی ہے۔

حافظ صاحب نئی نسل کے انداز فکر اور انداز کار سے بڑی حد تک واقف ہیں۔ کراچی کے امیر کی حیثیت سے انھوں نے ’’حق دو کراچی کو‘‘ کے عنوان سے اپنی مہم اسی انداز میں چلائی اور مقبولیت حاصل کی۔ یہی تحریک تھی جس نے انھیں کراچی میں برانڈ بنا دیا۔ مقبولیت کی یہ شکل کسی بھی سیاسی قائد کے لیے خوش قسمتی کا درجہ رکھتی ہے۔ حافظ صاحب نے اجتماع عام میں کارکنوں کو جو لائحہ عمل دیا ہے، وہ بھی اسی اسلوب میں ہے۔

جماعت اسلامی کا بنو قابل پروگرام حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ہی شروع ہوا ہے۔ یہ زمانہ دنیا بھر میں بے روزگاری کا ہے۔ پاکستان اس سے زیادہ متاثر ہے۔ روزگار کے مواقع کی فراہمی بہت صورت ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہے لیکن یہ مسئلہ جتنی وسعت رکھتا ہے، تنہا حکومت اس سے نمٹ نہیں سکتی۔ اس لیے سماج مؤثر طبقات کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کی نوجوان آبادی کو ہنر مند بنا کر اس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ جماعت اسلامی نے یہ ذمے داری سنبھال کر اچھا کیا ہے۔

اس سے مسئلے کے حل میں بھی مدد ملے گی اور اس کے نئی نسل میں نفوذ کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حافظ صاحب نے اعلان کیا ہے کہ اس پروگرام کی توسیع غیرہنر مند ورک فورس تک کی جائے گی۔ اس طرح بنو قابل پروگرام کی افادیت میں مزید اضافہ ہو گا۔ حافظ صاحب نے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے ساتھ انھیں کاروباری دنیا میں داخل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے، اس مقصد کے لیے وہ جماعت ہی کے زیر انتظام مائیکرو فنانس کا پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

کوئی شبہ نہیں کہ یہ منصوبے نہ صرف مفید ثابت ہوں گے بلکہ عوام میں اثر و نفوذ کا ذریعہ بھی بن سکیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حکمت عملی کسی سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے؟ عمومی حالات میں ایسا ہو سکتاہے لیکن ہمارے ہاں اس کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔

اس مقصد کے لیے حافظ صاحب نے عوامی مسائل پر جماعت کو مسلسل متحرک رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ حافظ صاحب اس شعبے میں خصوصی مہارت ہی نہیں رکھتے بلکہ کامیابیوں کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں لیکن سوال پھر وہی ہے، کیا یہ سب کافی ہو گا؟ اس کی آزمائش آنے والے دنوں میں ہو جائے گی البتہ اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں کہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے طویل عرصے کے بعد ایسا پروگرام سامنے آیا ہے جس میں صرف سیاست پر فوکس نہیں کیا گیا بلکہ اقتدار میں آئے بغیر عوام کی بہبود پر توجہ بھی کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی حافظ صاحب نے جماعت کے کی قیادت کے ساتھ ہے لیکن کیا ہے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی