اب صحت مند اور طویل عمر ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
زندگی اور موت لازم وملزوم ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ابتدائے آفرینش سے انسان آب حیات کا متلاشی رہا کہ عمر جاوداں کو پا لے، ماضی کے قصے کہانیوں سے قطع نظر سائنس و ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں اس خواب کی تعبیر نکلنے والی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں انسان ڈیڑھ دوسوسال کی طویل العمر پا لے گا، سائنسی ترقی کی بدولت۔ ایک اٹالین خاتون حیاتیاتی سائنسدان کرولینا فلورین جو ایک نیورو سائنٹسٹ ہیں انھوں نے چوہوں پر تجربہ کیا ہے جس میں انھوں نے چوہوں کو انجکشن لگائے، اس کے بعد کچھ ہفتوں تک چوہوں کا مشاہدہ کیا ۔حیران کن طور پر چوہے آہستہ آہستہ جوان ہوگئے اور ان کی جلد چمکدار ہوگئی۔ اس طرح انھوں نے پہلی مرتبہ بڑھاپے کا میکنزم ڈھونڈ نکالا یعنی انھوں نے اس پروٹین کو تلاش کر لیا جس کی وجہ سے انسان پر بڑھاپا طاری ہوتا ہے ۔ اور اس کا نام CDC-42 ہے ۔
2021میں ان کا پہلا ریسرچ پیپر شایع ہوا ۔ اور اس ریسرچ میں 15سال صرف ہوئے ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ پروٹین آہستہ آہستہ انسان کے سٹم سیل سے ملاپ کرتی ہے اور انسانی مدافعتی نظام کو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور کرتی جاتی ہے ۔ کیونکہ یہ پروٹین بڑھاپے میں زیادہ متحرک ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا مدافعتی نظام آہستہ آہستہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔اورانسان پر بیماریاںغالب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک جوان آدمی میں امیون سیل Bاور T پر مشتمل ہوتا ہے ۔ جوانی میں اس سیل کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے چنانچہ اگر کوئی وائرس حملہ آور ہو تو یہ سیل اس کو نہ صرف پہچانتا ہے بلکہ اس کو ریکارڈ بھی کر لیتا ہے آیندہ کے لیے تاکہ اگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو وہ اس کو پہچان کر اس کا خاتمہ کر سکے ۔
Bاور T امیون سیل جوانی میں بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن جب ہم بڑھاپے کی طرف جاتے ہیں تو یہ سیل کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی تعداد میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ اب وائرس کو پہچان کر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اس کے علاوہ ایک اور طرح کے امیون سیل بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں چنانچہ انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ اور یہاں تک کہ یہ ہمارے DNAکو بھی تبدیل کرنا شروع کردیتے ہیں ۔چہرے پر جھریاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ہمارے مسلز کمزور، بال سفید اور گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
خاتون سائنسدان فلوریان نے اس کے لیے ایک خاص قسم کی دوا کا استعمال کیا جس کا نامCASIN ہے۔یہ پروٹین CDC42کو کمزور کرکے بڑھاپے کی رفتار کو کم کردیتی ہے ۔ اس طرح ہمارا مدافعتی نظام دور جوانی کی طرح پھر سے دوبارہ طاقتور ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ دوائی جوانی کے سٹم سیل( stem sell) کو دوبارہ سے بڑھانا شروع کردیتی ہے ۔ انھوں نے اس دوائی کے چار انجکشن چوہوں کو چار دنوں میں لگائے ۔ اور پھر ان چوہوں کا مشاہدہ 6ماہ تک کیا۔نتیجہ یہ نکلاکہ بڑھاپے کی ذمے دار CDC42پروٹین کم ہونا شروع ہو گئی اور حیرت انگیز طور پر یہ چوہے آہستہ آہستہ جوان ہونا شروع ہو گئے ۔ان کے مسلز طاقتور ہو گئے اورا سٹیمنے میں بھی 50فیصد اضافہ ہو گیا یعنی چوہے جوان ہو رہے تھے چوہے اپنی عمر سے 9ہفتے کم نظر آنے لگے اس انجکشن کے لگنے کی وجہ سے۔ اگر یہ انجکشن انسان کو لگائے جائیں تو انسان کی عمر میں 5سال اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ بڑھاپے پر غالب آکر انسان دوبارہ سے جوان نظر آسکتا ہے ۔ چوہوں کے بعد یہ خاتون سائنسدان اب انسانوں پر ریسرچ کرنے جا رہی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ طویل العمری کے لیے انسانوں کو انجکشن لگائے جائیں یا دوسرا طریقہ سٹم سیل تھراپی ہے ۔ یہ طریقہ علاج کم خرچ اور سائیڈ ایفکٹس سے پاک ہے ۔اس وقت اس پر ریسرچ جاری ہے اور اُمید ہے کہ دنیا کو جلد اس بارے میں خوشخبری ملے گی۔
دنیا ایک نئے اٹھارہ سالہ دور میں داخل ہو رہی ہے ۔ جو بہترین بھی ہو سکتا ہے اور بدترین بھی ۔اور پاکستان بھی ہر حوالے سے جون 2026 تک ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جو انتہائی عجیب اور ناقابل یقین ہے ۔کم وبیش یہی کچھ اثرات انسانوں پر بھی مرتب ہونے جارہے ہیں ۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شروع ہو جاتی ہونا شروع ہو آہستہ آہستہ انھوں نے جاتے ہیں ہے اور
پڑھیں:
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا گزشتہ دس گھنٹوں سے جاری دھرنا علامہ ناصر عباس کی آمد پر مشاورت کے بعد نمازِ فجر کے فوراً بعد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
مشاورتی اجلاس میں علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی نے شرکت کی۔
اجلاس میں یہ طے پایا کہ منگل کے روز دوبارہ احتجاج کے لئے کارکنوں کو کال دی جائے گی جبکہ آج ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔
دوسری جانب سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔
مشاورت کے فوراً بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے، جبکہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سرد موسم میں سڑک کنارے آگ کے پاس بیٹھ گئے۔
اس موقع پر تحریکِ تحفظِ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دھرنا پہلے سے تیار شدہ پلان نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کو یقین تھا کہ چونکہ وہ ایک صوبائی یونٹ کے سربراہ ہیں اس لئے عدالتیں انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دیں گی لیکن یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے ایک جمہوری پشتون کی حیثیت سے دھرنا دیا ہے اور یہ دھرنا غالباً عدالتی حکم تک جاری رہے گا۔
محمود خان اچکزئی نے حکمرانوں کو پانچ ہزار تین سو ارب چور قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مینڈیٹ چور اور غاصب ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی قیادت کو تجویز دی کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات کروانی ہے تو عوامی طاقت سے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائی روک دیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے شرم کا مقام ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم اسمبلیوں کی کارروائی چلنے دیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کے ساتھی آج نمازِ فجر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے۔ محمود اچکزئی نے اعلان کیا کہ وہ عدالت میں سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔