Express News:
2026-07-24@16:16:22 GMT

اب صحت مند اور طویل عمر ہوگی

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

زندگی اور موت لازم وملزوم ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ابتدائے آفرینش سے انسان آب حیات کا متلاشی رہا کہ عمر جاوداں کو پا لے، ماضی کے قصے کہانیوں سے قطع نظر سائنس و ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں اس خواب کی تعبیر نکلنے والی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں انسان ڈیڑھ دوسوسال کی طویل العمر پا لے گا، سائنسی ترقی کی بدولت۔ ایک اٹالین خاتون حیاتیاتی سائنسدان کرولینا فلورین جو ایک نیورو سائنٹسٹ ہیں انھوں نے چوہوں پر تجربہ کیا ہے جس میں انھوں نے چوہوں کو انجکشن لگائے، اس کے بعد کچھ ہفتوں تک چوہوں کا مشاہدہ کیا ۔حیران کن طور پر چوہے آہستہ آہستہ جوان ہوگئے اور ان کی جلد چمکدار ہوگئی۔ اس طرح انھوں نے پہلی مرتبہ بڑھاپے کا میکنزم ڈھونڈ نکالا یعنی انھوں نے اس پروٹین کو تلاش کر لیا جس کی وجہ سے انسان پر بڑھاپا طاری ہوتا ہے ۔ اور اس کا نام CDC-42  ہے ۔

2021میں ان کا پہلا ریسرچ پیپر شایع ہوا ۔ اور اس ریسرچ میں 15سال صرف ہوئے ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ پروٹین آہستہ آہستہ انسان کے سٹم سیل سے ملاپ کرتی ہے اور انسانی مدافعتی نظام کو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور کرتی جاتی ہے ۔ کیونکہ یہ پروٹین بڑھاپے میں زیادہ متحرک ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا مدافعتی نظام آہستہ آہستہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔اورانسان پر بیماریاںغالب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک جوان آدمی میں امیون سیل Bاور T پر مشتمل ہوتا ہے ۔ جوانی میں اس سیل کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے چنانچہ اگر کوئی وائرس حملہ آور ہو تو یہ سیل اس کو نہ صرف پہچانتا ہے بلکہ اس کو ریکارڈ بھی کر لیتا ہے آیندہ کے لیے تاکہ اگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو وہ اس کو پہچان کر اس کا خاتمہ کر سکے ۔

 Bاور T امیون سیل جوانی میں بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن جب ہم بڑھاپے کی طرف جاتے ہیں تو یہ سیل کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی تعداد میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ اب وائرس کو پہچان کر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اس کے علاوہ ایک اور طرح کے امیون سیل بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں چنانچہ انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ اور یہاں تک کہ یہ ہمارے DNAکو بھی تبدیل کرنا شروع کردیتے ہیں ۔چہرے پر جھریاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ہمارے مسلز کمزور، بال سفید اور گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

خاتون سائنسدان فلوریان نے اس کے لیے ایک خاص قسم کی دوا کا استعمال کیا جس کا نامCASIN ہے۔یہ پروٹین CDC42کو کمزور کرکے بڑھاپے کی رفتار کو کم کردیتی ہے ۔ اس طرح ہمارا مدافعتی نظام دور جوانی کی طرح پھر سے دوبارہ طاقتور ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ دوائی جوانی کے سٹم سیل( stem sell) کو دوبارہ سے بڑھانا شروع کردیتی ہے ۔ انھوں نے اس دوائی کے چار انجکشن چوہوں کو چار دنوں میں لگائے ۔ اور پھر ان چوہوں کا مشاہدہ 6ماہ تک کیا۔نتیجہ یہ نکلاکہ بڑھاپے کی ذمے دار CDC42پروٹین کم ہونا شروع ہو گئی اور حیرت انگیز طور پر یہ چوہے آہستہ آہستہ جوان ہونا شروع ہو گئے ۔ان کے مسلز طاقتور ہو گئے اورا سٹیمنے میں بھی 50فیصد اضافہ ہو گیا  یعنی چوہے جوان ہو رہے تھے چوہے اپنی عمر سے 9ہفتے کم نظر آنے لگے اس انجکشن کے لگنے کی وجہ سے۔ اگر یہ انجکشن انسان کو لگائے جائیں تو انسان کی عمر میں 5سال اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ بڑھاپے پر غالب آکر انسان دوبارہ سے جوان نظر آسکتا ہے ۔ چوہوں کے بعد یہ خاتون سائنسدان اب انسانوں پر ریسرچ کرنے جا رہی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ طویل العمری کے لیے انسانوں کو انجکشن لگائے جائیں یا دوسرا طریقہ سٹم سیل تھراپی ہے ۔ یہ طریقہ علاج کم خرچ اور سائیڈ ایفکٹس سے پاک ہے ۔اس وقت اس پر ریسرچ جاری ہے اور اُمید ہے کہ دنیا کو جلد اس بارے میں خوشخبری ملے گی۔

دنیا ایک نئے اٹھارہ سالہ دور میں داخل ہو رہی ہے ۔ جو بہترین بھی ہو سکتا ہے اور بدترین بھی ۔اور پاکستان بھی ہر حوالے سے جون  2026 تک ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جو انتہائی عجیب اور ناقابل یقین ہے ۔کم وبیش یہی کچھ اثرات انسانوں پر بھی مرتب ہونے جارہے ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شروع ہو جاتی ہونا شروع ہو آہستہ آہستہ انھوں نے جاتے ہیں ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع