Express News:
2026-06-02@23:27:50 GMT

اب صحت مند اور طویل عمر ہوگی

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

زندگی اور موت لازم وملزوم ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ابتدائے آفرینش سے انسان آب حیات کا متلاشی رہا کہ عمر جاوداں کو پا لے، ماضی کے قصے کہانیوں سے قطع نظر سائنس و ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں اس خواب کی تعبیر نکلنے والی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں انسان ڈیڑھ دوسوسال کی طویل العمر پا لے گا، سائنسی ترقی کی بدولت۔ ایک اٹالین خاتون حیاتیاتی سائنسدان کرولینا فلورین جو ایک نیورو سائنٹسٹ ہیں انھوں نے چوہوں پر تجربہ کیا ہے جس میں انھوں نے چوہوں کو انجکشن لگائے، اس کے بعد کچھ ہفتوں تک چوہوں کا مشاہدہ کیا ۔حیران کن طور پر چوہے آہستہ آہستہ جوان ہوگئے اور ان کی جلد چمکدار ہوگئی۔ اس طرح انھوں نے پہلی مرتبہ بڑھاپے کا میکنزم ڈھونڈ نکالا یعنی انھوں نے اس پروٹین کو تلاش کر لیا جس کی وجہ سے انسان پر بڑھاپا طاری ہوتا ہے ۔ اور اس کا نام CDC-42  ہے ۔

2021میں ان کا پہلا ریسرچ پیپر شایع ہوا ۔ اور اس ریسرچ میں 15سال صرف ہوئے ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ پروٹین آہستہ آہستہ انسان کے سٹم سیل سے ملاپ کرتی ہے اور انسانی مدافعتی نظام کو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور کرتی جاتی ہے ۔ کیونکہ یہ پروٹین بڑھاپے میں زیادہ متحرک ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا مدافعتی نظام آہستہ آہستہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔اورانسان پر بیماریاںغالب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک جوان آدمی میں امیون سیل Bاور T پر مشتمل ہوتا ہے ۔ جوانی میں اس سیل کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے چنانچہ اگر کوئی وائرس حملہ آور ہو تو یہ سیل اس کو نہ صرف پہچانتا ہے بلکہ اس کو ریکارڈ بھی کر لیتا ہے آیندہ کے لیے تاکہ اگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو وہ اس کو پہچان کر اس کا خاتمہ کر سکے ۔

 Bاور T امیون سیل جوانی میں بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن جب ہم بڑھاپے کی طرف جاتے ہیں تو یہ سیل کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی تعداد میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ اب وائرس کو پہچان کر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اس کے علاوہ ایک اور طرح کے امیون سیل بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں چنانچہ انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ اور یہاں تک کہ یہ ہمارے DNAکو بھی تبدیل کرنا شروع کردیتے ہیں ۔چہرے پر جھریاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ہمارے مسلز کمزور، بال سفید اور گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

خاتون سائنسدان فلوریان نے اس کے لیے ایک خاص قسم کی دوا کا استعمال کیا جس کا نامCASIN ہے۔یہ پروٹین CDC42کو کمزور کرکے بڑھاپے کی رفتار کو کم کردیتی ہے ۔ اس طرح ہمارا مدافعتی نظام دور جوانی کی طرح پھر سے دوبارہ طاقتور ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ دوائی جوانی کے سٹم سیل( stem sell) کو دوبارہ سے بڑھانا شروع کردیتی ہے ۔ انھوں نے اس دوائی کے چار انجکشن چوہوں کو چار دنوں میں لگائے ۔ اور پھر ان چوہوں کا مشاہدہ 6ماہ تک کیا۔نتیجہ یہ نکلاکہ بڑھاپے کی ذمے دار CDC42پروٹین کم ہونا شروع ہو گئی اور حیرت انگیز طور پر یہ چوہے آہستہ آہستہ جوان ہونا شروع ہو گئے ۔ان کے مسلز طاقتور ہو گئے اورا سٹیمنے میں بھی 50فیصد اضافہ ہو گیا  یعنی چوہے جوان ہو رہے تھے چوہے اپنی عمر سے 9ہفتے کم نظر آنے لگے اس انجکشن کے لگنے کی وجہ سے۔ اگر یہ انجکشن انسان کو لگائے جائیں تو انسان کی عمر میں 5سال اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ بڑھاپے پر غالب آکر انسان دوبارہ سے جوان نظر آسکتا ہے ۔ چوہوں کے بعد یہ خاتون سائنسدان اب انسانوں پر ریسرچ کرنے جا رہی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ طویل العمری کے لیے انسانوں کو انجکشن لگائے جائیں یا دوسرا طریقہ سٹم سیل تھراپی ہے ۔ یہ طریقہ علاج کم خرچ اور سائیڈ ایفکٹس سے پاک ہے ۔اس وقت اس پر ریسرچ جاری ہے اور اُمید ہے کہ دنیا کو جلد اس بارے میں خوشخبری ملے گی۔

دنیا ایک نئے اٹھارہ سالہ دور میں داخل ہو رہی ہے ۔ جو بہترین بھی ہو سکتا ہے اور بدترین بھی ۔اور پاکستان بھی ہر حوالے سے جون  2026 تک ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جو انتہائی عجیب اور ناقابل یقین ہے ۔کم وبیش یہی کچھ اثرات انسانوں پر بھی مرتب ہونے جارہے ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شروع ہو جاتی ہونا شروع ہو آہستہ آہستہ انھوں نے جاتے ہیں ہے اور

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان