ہوم بیسڈ لیبر یونین کے تحت لیبر کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہوم بیسڈ لیبر یونین کے زیر اہتمام حیدرآباد پریس کلب میں لیبر کانفرنس منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ اس موقع پر نظامت کے فرائض کے ہوم بیسڈ ورکرز یونین کی جنرل سیکرٹری عرفانہ عبد الجبار نے انجام دیے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ہوم بیسڈ ورکرز یونین حیدرآباد کی عہدیداران سلمہ گل، حمیدہ کریم بخش اور شاہدہ سولنگی نے اپنی دو دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کی تاریخ بیان کرتے ہوئے خواتین محنت کشوں کے مسائل و مشکلات کی نشاندہی کی۔
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن وسیم جمال نے شرکاء کانفرنس کو کامیاب لیبر کنونشن منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے محنت کش خواتین بالخصوص ہوم بیسڈ ورکرز کو سیسی میں ہوم بیسڈ ورکرز کی رجسٹریشن کے حوالے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں سوشل سیکورٹی کے مالی و طبی فوائد سے آگاہ کیا، سیسی کے سینئر ڈائریکٹر کنٹری بیوشن و بینیفٹ ڈاکٹر غلام دستگیر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ سوشل سیکورٹی کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ہوم بیسڈ ورکرز، ڈومیسٹک ورکرز سمیت پلیٹ فارم محنت کشوں کی سیسی میں جلد از جلد رجسٹریشن ہوسکے۔ اس وقت سے بڑا مسئلہ ان محنت کشوں کی کنٹری بیوشن کی ادائیگی کا ہے کیونکہ صنعتی و کمرشل اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کا کنٹری بیوشن تو ان کا آجر ادا کرتا ہے لیکن ہوم بیسڈ ورکرز کی کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لیے کسی نئے طریقہ کار یا نظام پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی جنرل وقار احمد میمن نے ہوم بیسڈ ورکرز یونین کی جنرل سیکرٹری عرفانہ عبد الجبار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں اپنی تن تنہا اتنا کامیاب کنونشن کرنا بہت بڑی بات ہے، سیکڑوں خواتین کا کامیاب کنونشن انعقاد کرنا بہت بڑی بات ہے، اس کامیابی کے پیچھے ان خواتین کی مستقل مزاجی سے جدوجہد موجود ہے، بغیر کسی وسائل کے کام کرنا بہت مشکل کام ہے۔
مہران پروگریسیو فیڈریشن کے صدر اور سندھ سوشل سیکورٹی کی گورننگ باڈی کے ممبر واحد شورو، نیشنل ریفائنری کنٹریکٹ ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری شاکر محمود صدیقی، سانکو کے سی سی او سلمان جی ابڑو، سابق ایم پی اے فرحین مغل سمیت دیگر مقررین نے ہوم بیسڈ ورکرز بالخصوص خواتین کے مسائل و مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں سوشل سیکورٹی سمیت دیگر سماجی تحفظ کے اداروں میں رجسٹریشن کو یقینی بنانے کا مطالبہ پیش کرتے کیا۔
عرفانہ عبد الجبار نے مہمان گرامی کو یونین کی جانب سے اجرک کا تحفہ پیش کیا۔ جبکہ ہوم بیسڈ ورکرز کے مسلسل کام کرنے والی خواتین ورکرز کو ان کی جدوجہد کے اعتراف میں انہیں شیلڈ پیش کیں۔
عرفانہ عبد الجبار نے اس موقع پر کہا کامیاب کنونشن ہماری منزل نہیں ہے ہم نے اپنے حقوق کے حصول تک اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہے، مجھے امید ہے کہ آج کو مہمان گرامی بالخصوص حکومتی اداروں کے جو نمائندے موجود ہیں وہ اس کاوش میں ہمارا ساتھ دیں گے۔
کنونشن کے آخر میں قرار دادوں کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ گھر مزدور عورتوں کو قانوناً ورکرز تسلیم کرتے ہوئے سوشل سیکورٹی کے ادارے میں رجسٹر کیا جائے، چوڑی کی صنعت سے وابستہ کام میں مضر صحت کیمیکلز کے استعمال کی روک تھام کی جائے اور صنعت سے وابستہ محنت کشوں کو خصوصی سہولیات مہیا کی جائیں، ان کے حقوق اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہوم بیسڈ پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے۔ کاؤنسل بنائی جائے، ہوم بیسڈ ورکرز کے علاقوں میں مختلف ہنر سکھانے کے لیے اسکل سینٹر قائم کیے جائیں اور ورکرز کے بچے اور بچیوں کے لیے تعلیمی ادروں کا اہتمام کیا جائے، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں میں کمی کی جائے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم کی جائے۔
ویب ڈیسک
گلزار
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عرفانہ عبد الجبار ہوم بیسڈ ورکرز سوشل سیکورٹی ورکرز یونین کنٹری بیوشن کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
ایبٹ آباد،انسداد تجاوزات کاعملہ کارروائی کرتے ہوئے
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default"> جسارت نیوز
گلزار