تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ ﷺ کے زیراہتمام وحدتِ اُمت کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
تحریک بیداری کے سربراہ نے کہا کہ دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود امت نے قرآن کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا نہیں کیا۔ اگر فکری و تعلیمی ادارے قرآن کو اپنے نظام کا مرکز بناتے تو آج امت ذلت و اضطراب کا شکار نہ ہوتی۔ انہوں نے غزہ کے بچوں، خواتین اور عوام کی استقامت کو ایمان کی زندہ تفسیر قرار دیا۔ انہوں نے حماس، حزب اللہ، یمن کے مجاہدین اور ایران کی قیادت کو عملی مزاحمت اور ایمانی غیرت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی قوتیں اسلام کی حرارت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰﷺ کے زیرِاہتمام وحدتِ اُمت کانفرنس بعنوان “غزہ کے میدان میں اُمت کا امتحان” منعقد ہوئی جس کی صدارت سربراہ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ ﷺ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ کانفرنس میں مذہبی و سیاسی قائدین، علمائے کرام، مشائخ، ماہرینِ تعلیم، وکلا، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) علامہ حیدر علوی، سابق ضلعی امیر جماعت اسلامی چکوال آصف اشرف، ضلعی صدر مرکزی مسلم لیگ مولانا عبداللہ نثار، سابق جنرل سیکرٹری بار کونسل چکوال ایڈووکیٹ عتیق الرسول اور ضلعی رہنما منہاج القرآن و سربراہ اسلامک سینٹر چکوال مولانا حافظ قیصر منیر سمیت دیگر مقررین شامل تھے۔
اپنے خطاب میں علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود امت نے قرآن کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا نہیں کیا۔ اگر فکری و تعلیمی ادارے قرآن کو اپنے نظام کا مرکز بناتے تو آج امت ذلت و اضطراب کا شکار نہ ہوتی۔ انہوں نے غزہ کے بچوں، خواتین اور عوام کی استقامت کو ایمان کی زندہ تفسیر قرار دیا۔ انہوں نے حماس، حزب اللہ، یمن کے مجاہدین اور ایران کی قیادت کو عملی مزاحمت اور ایمانی غیرت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی قوتیں اسلام کی حرارت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ علامہ سید جواد نقوی نے اسرائیل و امریکہ نواز پالیسیوں کو امت کے زوال کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حکمران جو عوام کے جذبات اور مظلوموں کے خون کا سودا کرتے ہیں، امت کے ضمیر کے مجرم ہیں۔ مقررین نے کہا کہ پاکستانی قوم کے اندر غیرت، ایمان اور بیداری کی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم صالح قیادت اور قرآنی رہنمائی میں متحد ہو کر مظلوموں کا ساتھ دے۔ اگر قوم نے اپنے اصل کی طرف رجوع کیا تو تاریخ کا دھارا بدلا جا سکتا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مزاحمت اپنے ہتھیاروں کے ساتھ علاقائی معادلات میں داخل ہو چکی ہے اور اس طاقت کے عنصر کو برقرار رکھے گی، نجباء تحریک
الموسوی نے جاپانی اخبار ’’آساہی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ آج مزاحمت کی تمام توانائیوں، خاص طور پر ہتھیاروں کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی مزاحمتی تحریک النجباء کے ترجمان نے زور دیا ہے کہ مزاحمت اپنے ہتھیاروں کے ذریعے علاقائی معادلات میں شامل ہو چکی ہے اور اس طاقت کے عنصر کو محفوظ رکھے گی۔تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق، النجباء کے میڈیا ترجمان حسین الموسوی نے کہا کہ ’’طوفان الاقصی‘‘ کے تجربے نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ ہمیں خطے کی سیاسی و میدانی معادلات کی تشکیل میں مضبوط کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بنا پر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے ہتھیار رکھ کر دشمن کو، جو فریب کاری سے کام لیتا ہے، اپنے اہداف کے حصول کا موقع دیں۔ الموسوی نے جاپانی اخبار ’’آساہی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ آج مزاحمت کی تمام توانائیوں، خاص طور پر ہتھیاروں کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے، کیونکہ یہی ہمارے وطن اور قوم کے دفاع کا ذریعہ ہیں۔