دینی طلباء کیلئے سمارٹ لرننگ کی اہمیت
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سمارٹ لرننگ سے کنارہ کشی دراصل عہدِ جدید سے گریز ہے۔ علم کی دنیا اب جامد نہیں رہی، یہ ایک مسلسل بہتا ہوا دریا ہے اور جو اس دریا کے کنارے بیٹھ کر اس سے استفادہ نہیں کرے گا، وہ رفتہ رفتہ اپنے اندر ہی اندر سوکھ جائے گا۔ سمارٹ لرننگ کو نہ اپنانا گویا امکانات کے دروازے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر بند کرنا ہے، یہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس میں کوئی بھی انسان جدید ٹیکنالوجی یا جدید تعلیم کے بجائے اپنے اندرونی خوف اور قدیمی سُستی کی وجہ سے ہارے گا۔ سمارٹ لرننگ سے انکار دراصل خود انسان کی اپنی صلاحیت کے ارتقاء کا انکار ہے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
سمارٹ لرننگ سے آشنائی دینی طلباء کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ طالبِ علم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے ایک ذاتی، دقیق اور منظم تعلیمی نقشہ تیار کیا جائے۔ ایک ایسا نقشہ جو اس کے ذہنی میلانات کے مطابق ہو، اس کے کمزور پہلوؤں کو سہارا دے، اس کی صلاحیتوں کو ابھارے اور اس کے وقت کو بےکار مشقت میں ضائع ہونے سے بچائے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تعلیم کی دنیا بدل رہی ہے، نظامِ تدریس سنور رہا ہے اور ڈیجیٹل زمانہ چُپکے سے مدارس کے صحن میں بھی داخل ہو رہا ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت کے امکانات یونیورسٹیز و مدارس دونوں کے علمی افق پر نئی روشنی بکھیرنے لگے ہیں۔ اب روایتی دروس کے ساتھ تجزیاتی الگورتھم کا امتزاج ممکن ہے۔ یعنی کتاب کے پہلو میں ڈیجیٹل ذہانت اپنا جادو جگا رہی ہے۔ اب درس بدستِ استاد ہوگا، لیکن تجزیہ بدستِ مشین، رہنمائی انسانی ہوگی اور معاونت خودکار۔
مصنوعی ذہانت ایسے نظام پیدا کر رہی ہے، جو طلباء کے ذہنی میلانات کو پہچانتے ہیں، کارکردگی کے اشاریوں کو پڑھتے ہیں۔ کارکردگی کے اشاریئے یا Performance Indicators سے مراد وہ معیارات یا پیمانے ہیں، جن کی بنیاد پر کسی طالب علم، استاد یا تعلیمی نظام کی کارکردگی کو ماپا، جانچا اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہی تجزیات کی روشنی میں ہر طالب علم کے لیے ایک مخصوص تعلیمی راستہ تجویز کیا جاتا ہے، ایک ایسا راستہ جو تعلیمی میدان میں طالب کے ٹائم ٹیبل، اہداف، مزاج اور عادات کی اصلاح کرنے کیلئے مربوط اور موزوں ہو۔ یہ اشاریئے یہ مانیٹر کرتے ہیں کہ طالب علم وقت کے ساتھ کس حد تک ترقی کر رہا ہے اور اس کے سبق کے فہم میں استحکام ہے یا نہیں۔
مدارس کے لیے مذکورہ جدید طریقے نعمت بن سکتے ہیں، چونکہ ڈیجیٹل نظام لمحوں میں دینی متون کے خلاصے تیار کرسکتا ہے، مشقی سوالات بنا سکتا ہے اور خودکار جانچ سے نتائج مرتب کرسکتا ہے۔ اس سے طلباء کی تربیتِ عقل و روح کرنے کیلئے استاد کا بہت سارا قیمتی وقت بچ سکتا ہے۔ مشینی جانچ اور مشترکہ مطالعے کے پلیٹ فارم بھی مدارس کے طلباء کے لیے تعلیمی ترقی نئے امکانات کھولتے ہیں۔ اس سے طلباء ایک ہی متن پر حاشیے لکھنے، بحث و مباحثہ کرنے اور مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا دینی نصابِ تعلیم "فیکٹ چیکنگ" کا متحمل ہے؟ (فیکٹ چیکنگ پر ہمارا گذشتہ کالم اس لنک https://voiceofnationint.
کیا قرونِ اولیٰ سے منتقل ہونے والی متون، شروح اور اسناد اس مشینی جانچ کے معیارات پر پوری اتریں گی؟ کیا الگورتھم غلط فتاویٰ کو عوام سے چھپائے گا۔؟ کیا ایک ڈیجیٹل نظام مسلمانوں کی تاریخی غلطیوں اور نامقدّس شخصیات کو مقدس کہے گا۔؟ کیا دیندار لوگ اے آئی کی "فیکٹ چیکنگ" کو قبول کریں گے یا اے آئی کو کُفر قرار دے کر اے آئی کی جانچ پرکھ سے بچ پائیں گے۔؟ سمارٹ لرننگ جہاں فیکٹ چیکنگ کو مقبول بنائے گی، وہیں علمی امانت داری کا بحران بھی پیدا کرے گی۔ اس سے حقائق کو جاننا تو آسان ہو جائے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اندیشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ طلباء اصل محنت چھوڑ کر یہی سہل طریقے اپنا لیں۔ دینی مدارس کے اساتذہ کو خصوصی طور پر ایسے رہنماء اصول وضع کرنا ہوں گے کہ ٹیکنالوجی کہاں معاون ہے اور کہاں مضر، کہاں سہارا ہے اور کہاں سستی کا جواز، چونکہ انسانی استاد کی بصیرت، اس کا اخلاقی وزن اور اس کی تربیتی حکمت وہ سرمایہ ہے، جسے کوئی مشین نہیں اپنا سکتی۔
ڈیٹا کی حفاظت، پاسورڈز کا تحفظ، معلومات کی امانت اور پالیسیوں کی شفافیت بھی سمارٹ لرننگ کے سفر میں ضروری ہے۔ یہی وقت ہے کہ تمام دینی مدارس سمارٹ لرننگ کو اپنائیں، ورنہ بعد میں یونیورسٹی اور دینی مدرسے کا تعلیمی تفاوت مزید بڑھ جائے گا۔ سمارٹ لرننگ کو ذمہ داری، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ اپنانے سے دینی مدارس آسانی کے ساتھ اپنے علمی ورثے کو ایک نئے انداز میں دنیا تک منتقل کرسکیں گے۔ سمارٹ لرننگ کو اپنانے کا عمل اُس وقت ممکن ہے کہ جب مدرسہ اپنے سسٹم مائنڈسیٹ کو اپ ڈیٹ کرے۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ فرد یا ادارہ اپنی سوچ، اپروچ اور طریقۂ کار کو نئے حالات اور جدید ضروریات کے مطابق اسی طرح بہتر اور جدید بنانے کیلئے سوچے جیسے کمپیوٹر کا سسٹم پرانا ہو جانے پر خود کمپیوٹر اپ ڈیٹ کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔
اس کے بعد ہی انسان کو یہ سمجھ آتی ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز کسی انسان کا متبادل نہیں ہیں، بلکہ ہر انسان کیلئے ایک طاقتور اسسسٹنٹ ماڈیول (ایسا معاون نظام جو مرکزی نظام (یعنی تدریسی عمل) کے ساتھ جڑ کر اس کی کارکردگی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ کسی اضافی "چیز" کا نام نہیں بلکہ وہ ڈیجیٹل وسائل، ٹولز اور تکنیکی حربے ہیں جو پڑھانے اور سیکھنے کو زیادہ مؤثر،تیز اور منظم بنا دیتے ہیں) ہیں۔ جیسے ہی یوزرز یعنی اساتذہ اور طلباع دونوں اپنی سوچ اور عادات کو اس طرح ٹھیک کرتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کو آسانی سے قبول اور استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں تو تعلیمی ماحول کی مجموعی کارکردگی بڑھنے لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پڑھانا اور سیکھنا زیادہ آسان، تیز، منظم اور مؤثر ہو جاتا ہے۔
چند بیسک ہارڈویئر یونٹس (بنیادی فزیکل آلات جو سمارٹ لرننگ کے لیے ضروری ہیں اور تعلیم کے عمل کو ڈیجیٹل انداز میں چلانے کی سہولت دیتے ہیں) جیسے ٹیبلیٹ، کروم بک (سادے اور سستے کمپیوٹر کی طرح ہے، جو انٹرنیٹ اور تعلیمی ایپس استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے) یا ایک آف لائن ڈیجیٹل ہب (ایک ایسا لوکل ڈیجیٹل اسٹوریج یا سرور جس میں مواد محفوظ ہوتا ہے اور انٹرنیٹ کے بغیر بھی طلبہ اور اساتذہ اسے استعمال کرسکتے ہیں)، جب ایک تعلیمی سسٹم میں شامل ہوتے ہیں، تو لَیگ کم (سسٹم یا ڈیجیٹل ٹولز میں سست روی یا تاخیر کم ہو جائے، یعنی طلباء اور استاد جو کام کرنا چاہتے ہیں، وہ فوراً ہو جائے)، ایکسیس بڑھ (مواد، وسائل یا معلومات تک پہنچنا آسان اور تیز ہو جائے، یعنی ہر طالب علم یا استاد کو ضرورت کے مطابق فوری رسائی ملے) اور ورک فلو اسٹریملائن (تدریس اور سیکھنے کے عمل کے مراحل آسان اور منظم ہو جائیں، یعنی کام کا سلسلہ بلا رکاوٹ اور بہتر ترتیب سے چلتا رہے) ہو جاتا ہے۔
نصابی مواد کو جب ڈیجیٹل فارمیٹسپی یعنی ایسی الیکٹرانک شکلیں، جن میں معلومات یا مواد کمپیوٹر، موبائل یا دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز پر پڑھی، سنی یا دیکھی جا سکیں، جیسے: پی ڈی ایف، ای پب یا ملٹی میڈیا فائلز میں تو انفارمیشن ریٹرائیول (مطلوبہ معلومات یا مواد کو تلاش کرکے حاصل کرنے کا عمل) تیز، سرچ ایبلیٹی بہتر اور یوزر ایکسپیریئنس آسان ہو جاتا ہے۔ اساتذہ کی ٹریننگ دراصل اساتذہ کا اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بہتر بنا کر جدید تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کرنا ہے، جس کے بعد وہ نئی ٹیکنالوجی کو بغیر ایرر (کوئی غلطی یا مسئلہ جو سسٹم، پروگرام یا عمل میں پیدا ہو جائے) کے استعمال کر پاتے ہیں اور کلاس روم میں اُن کی درسی معلومات کو منتقل کرنے، تدریس کو موثر بنانے اور مقررہ وقت کے اندر انجام دینے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اسی سے طلبا کی بیک وقت کئی طرح کی معلومات کو حاصل کرنے، سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیّت وسیع ہو جاتی ہے، تحقیق کے عمل کے دوران مطلوبہ معلومات یا حوالہ جات کو تلاش کرنے اور حاصل کرنے کی رفتار تیز اور معلومات کو صاف، درست اور واضح طور پر سمجھنے کی توانائی بہتر ہو جاتی ہے۔
ساتھ ہی ساتھ تعلیمی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے فلٹرڈ نیٹ ورک، ایکسیس کنٹرول اور یوزج پالیسی (کسی سسٹم، ڈیوائس یا وسائل کو استعمال کرنے کے قواعد اور حدود) نافذ کی جاتی ہے، تاکہ کوئی کمپیوٹر یا ڈیجیٹل ڈیوائس کو نقصان پہنچانے والا نقصان دہ سافٹ ویئر اخلاقی اسپام سسٹم کو کرپٹ نہ کرسکے۔ مسلسل مانیٹرنگ اور فیڈ بیک لوپ کے ذریعے پورا ڈھانچہ ریگولر بنیادوں پر فائن ٹیون (کسی نظام، عمل یا ڈھانچے کو بہتر اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے معمولی تبدیلیاں یا اصلاحات کرنے کا عمل) ہوتا رہتا ہے اور آخرکار ایک ایسا تعلیمی ماحولیاتی نظام تشکیل پاتا ہے جس میں روایت اور ٹیکنالوجی دونوں کا انٹر فیس (دو سسٹمز یا انسان اور سسٹم کے درمیان مکالمہ) مکمل ہم آہنگی سے چلتا رہتا ہے۔
سمارٹ لرننگ سے کنارہ کشی دراصل عہدِ جدید سے گریز ہے۔ علم کی دنیا اب جامد نہیں رہی، یہ ایک مسلسل بہتا ہوا دریا ہے اور جو اس دریا کے کنارے بیٹھ کر اس سے استفادہ نہیں کرے گا، وہ رفتہ رفتہ اپنے اندر ہی اندر سوکھ جائے گا۔ سمارٹ لرننگ کو نہ اپنانا گویا امکانات کے دروازے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر بند کرنا ہے، یہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس میں کوئی بھی انسان جدید ٹیکنالوجی یا جدید تعلیم کے بجائے اپنے اندرونی خوف اور قدیمی سُستی کی وجہ سے ہارے گا۔ سمارٹ لرننگ سے انکار دراصل خود انسان کی اپنی صلاحیت کے ارتقاء کا انکار ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سمارٹ لرننگ کو فیکٹ چیکنگ استعمال کر اپنے اندر طالب علم ایک ایسا کے مطابق مدارس کے جاتا ہے جائے گا کے ساتھ ہو جائے جاتی ہے یہ ایک کے لیے ہے اور اور اس
پڑھیں:
اسکردو میں کمانڈر ایف سی این اے کی نوجوانوں اور اکیڈمیا کے طلباء کے ساتھ خصوصی نشست
اسکردو:اسکردو میں کمانڈر ایف سی این اے کی نوجوانوں اور اکیڈمیا کے طلباء کے ساتھ خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ کمانڈر ایف سی این اے نے شرکاء کو خطہ کے امن و امان، قومی سلامتی اور گلگت بلتستان کی اسٹریٹجک اہمیت سے آگاہ کیا۔
کمانڈر ایف سی این اے نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں جس سے نوجوان مستفید ہو سکتے ہیں۔
کمانڈر ایف سی این اے کا کہنا تھا کہ نوجوان ریاست کا مستقبل ہیں اس لیے قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں۔
نوجوان طلباء اور اساتذہ نے خصوصی نشست کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی ایسے سیشنز منعقد ہونے چاہئیں جس کی بدولت طلباء میں شعور بیدار ہوتا ہے۔
طباء نے کہا کہ ہمارے ذہنوں میں موجود بہت سے شکوک و شبہات دور ہوگئے، بنیان المرصوص اور دفاع پاکستان میں پاک فوج کے کردار سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئیں۔