صدر مملکت آصف زرداری نے ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے باخبر قیادت، قومی ہم آہنگی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ستائیسویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے قومی سلامتی سے متعلق آگاہی کو تقویت دینے کےلئے شرکا کی لگن کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی ورکشاپ قومی سلامتی کے لیے ہمہ جہتی نقطہ نظر اپنانے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے اس سے قومی سطح پر مکالمے کو فروغ ملے گا۔

ورکشاپ میں ارکان پارلیمنٹ، سینئر سول اور فوجی افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔صدرِ مملکت نے ورکشاپ مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاکستان میں غیر قانونی وی پی اینز قومی سلامتی کے لیے کثیر الجہتی خطرہ قرار

سائبر سیکیورٹی ماہرین اور متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی وی پی اینز (VPNs) کا استعمال قومی سلامتی، سماجی استحکام اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔

حکومتی اداروں کے مطابق، ان رجسٹرڈ نہ ہونے والے وی پی اینز کے ذریعے ایسے بہت سے عوامل کو تقویت مل رہی ہے جو قانون نافذ کرنے والے نظام کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی وی پی اینز کی مدد سے بعض دہشتگرد گروہ اور جرائم پیشہ عناصر اپنی لوکیشن چھپا کر آن لائن سرگرم رہتے ہیں، پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں اور نگرانی سے بچ نکلتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں کوئی وی پی این بلاک نہیں ہوگا، چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، سرحد پار سے چلنے والے بعض مشتبہ اکاؤنٹس، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان مخالف بیانیہ پھیلاتے ہیں۔ غیر قانونی وی پی اینز کے ذریعے ملکی ناظرین کو نشانہ بناتے ہیں۔

سائبر انٹیلیجنس ماہرین کا کہنا ہے کہ وی پی این کی گمنامی کرپٹو اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے پوشیدہ مالی لین دین کو بھی آسان بناتی ہے، جو کالعدم تنظیموں کے ممکنہ مالی نیٹ ورکس تک پہنچنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی طرح، خفیہ آن لائن رسائی سے عسکریت پسندوں کی ممکنہ ورچوئل کمیونیکیشن، تربیتی مواد اور رابطہ کاری کے خدشات بھی سامنے آتے ہیں۔

ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق، غیر فلٹر شدہ وی پی این ٹریفک ملک کے اندر انتہا پسند مواد، غیر قانونی آن لائن کمیونٹیز اور حساس معلومات تک رسائی کو ممکن بناتی ہے، جس کا اثر خصوصاً نوجوانوں پر پڑتا ہے جو غیر منظم آن لائن نیٹ ورکس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وی پی این کی بندش، چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا

غیر قانونی وی پی اینز سائبر جرائم کے لیے بھی راستہ ہموار کرتے ہیں جن میں ہیکنگ، ڈیٹا چوری، فراڈ اور سائبر بُلیئنگ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے غلط معلومات، افواہیں اور سیاسی بیانیے کی برہمی کا پھیلاؤ بھی ممکن ہے۔

ریگولیٹری اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز قومی انٹرنیٹ فلٹرنگ کے نظام کو غیر مؤثر کر دیتے ہیں جس سے میڈیا کی سالمیت، ٹیکسیشن، ڈیجیٹل مارکیٹس اور آن لائن کاپی رائٹس کے نفاذ پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل پائریسی، غیر قانونی کاروبار اور عالمی مارکیٹ پلیسز کا غلط استعمال بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، وی پی این کے ذریعے آنے والی خفیہ ٹریفک میلویئر اور بیرونی سائبر حملوں کے امکانات بھی بڑھاتی ہے، جس سے قومی انفراسٹرکچر کے لیے نئے سائبر ’بلائنڈ اسپاٹس‘ پیدا ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے نے ’وی پی اینز‘ کی رجسٹریشن کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے وی پی این رجسٹریشن، نگرانی اور مؤثر ریگولیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، منظم اقدامات کے بغیر سائبر خطرات، اقتصادی بے ضابطگیاں اور معلوماتی سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان غیر قانونی وی پی اینز کثیر الجہتی خطرہ

متعلقہ مضامین

  • چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی ضروری ہے: صدر زرداری
  • صدر مملکت آصف علی زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ
  • اسلام آباد: صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ
  • صدرمملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ،اسناد تقسیم
  • صدرِ پاکستان کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ، قومی سلامتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب
  • نئی دہلی میں جامعہ ہمدرد اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اشتراک سے دو روزہ قومی سیمینار
  • صدر مملکت اور وفاقی وزیر داخلہ کا ڈی آئی خان میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • پاکستان میں غیر قانونی وی پی اینز قومی سلامتی کے لیے کثیر الجہتی خطرہ قرار
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ایران کی ملاقات