کوزم پورا نہ ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی : سینٹ میں پی ٹی آئی کا احتجاج ؛ نعرے بازی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن کے رکن صاحبزادہ محبوب سلطان نے نکتہ اعتراض مانگا تاہم سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے واضح کیا کہ پہلے ایوان کا بزنس چلایا جائے گا، اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جائے گا۔ اسی دوران اپوزیشن رکن نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ گنتی کے بعد ایوان میں صرف 53 اراکین موجود پائے گئے، جبکہ کورم پورا کرنے کے لیے 84 اراکین کی موجودگی ضروری ہے۔ حکومت ایوان میں مطلوبہ تعداد یقینی بنانے میں ناکام رہی، جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کورم پورا ہونے تک اجلاس کی کارروائی معطل کر دی۔ اجلاس دوبارہ ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی سربراہی میں شروع ہوا تو گنتی کرائی گئی لیکن کورم پورا نہ نکلا اور اجلاس پیر شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ دوسری طرف سینٹ اجلاس شہادت اعوان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پی ٹی آئی ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ وقفہ سوالات میں پی پی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ چترال میں سیاحت اس وقت تک فروغ نہیں پاسکتی جب تک وہاں پر بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں نہ تو انٹرنیٹ سسٹم ہے اور نہ ہی سڑکوںکا نظام بہتر ہے جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ حکومت چترال میں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اب یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر جان محمد نے کہاکہ تربت سے فلائٹ سروس کینسل کردی گئی ہیں اور اب صرف دو فلائٹیں ہفتے میں چلتی ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں۔ جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ تربت مکران ڈویژن کے علاقے میں ہے اور وہاں سے فلائٹس آپریٹ ہوتی تھی مگر وہاں پر اب ٹریولنگ لوڈ کے مطابق فلائیٹس چلتی ہیں اور اگر مزید ضرورت پڑی تو فلائٹس بڑھا دی جائیں گی۔ ایوان بالا نے جرنلسٹ پروٹیکشن بل منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھجوا دیا۔ نجکاری کمیشن ترمیمی بل پیش کردیا گیا جو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہاکہ
پڑھیں:
قومی اسمبلی اجلاس میں تعلیم، ہیلتھ اور ماحولیات کے اہم بل زیر غور
قومی اسمبلی کا اجلاس کل بروز جمعرات 27 نومبر 2025 کو شام 5 بجے منعقد ہوگا جس میں تلاوت قرآن، حدیث اور قومی ترانہ کے بعد اہم حکومتی اور عوامی معاملات زیر بحث آئیں گے۔
اجلاس میں سب سے پہلے وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی توجہ طلب کی جائے گی کہ وفاقی کالجز اور اسکولز میں طلبہ کے لیے ناکافی ٹرانسپورٹ کی سہولیات عوام میں تشویش کا باعث ہیں۔
اس کے بعد کئی اہم بل متعارف کرائے جائیں گے جن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ 1886، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز ایکٹ 2021، نیشنل فنڈ برائے کلچر ہیریٹیج ایکٹ 1994 اور نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ ایکٹ 2021 میں ترامیم شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ اجلاس میں نیشنل ایگری ٹریڈ اتھارٹی بل اور صحافیوں کے مسائل پر غور
وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی قومی اسمبلی میں کنگ حمد یونیورسٹی آف نرسنگ اور ایسوسی ایٹڈ میڈیکل سائنسز کے قیام، اور دانش اسکولز اتھارٹی کے قیام اور انتظامات کے بل پر غور اور منظوری کی تحریک پیش کریں گے۔
وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ قانو نِ شہادت 1984 میں ترامیم کا بل اسمبلی میں پیش کریں گے۔
اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری کی تحریکِ شکریہ پر مزید بحث بھی ہوگی، جس میں صدر پاکستان کے 10 مارچ 2025 کے مشترکہ خطاب پر شکرگزاری کا اظہار کیا جائے گا۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی توجہ اسلام آباد کی فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کے بارے میں دلانا بھی ایجنڈے میں شامل ہے، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
طارق فضل چوہدری قومی اسمبلی کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ وزیر موسمیاتی تبدیلی