صدرمملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ،اسناد تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
حمد منصور :صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) اسلام آباد کا دورہ کیا اور 27ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ میں ارکانِ پارلیمنٹ، سینیئر سول و عسکری افسران، اور تعلیمی و سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے نمائندگان نے شرکت کی۔
ورکشاپ کا مقصد جامع قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت قومی طاقت کے مختلف عناصر کے باہمی تعلق کو گہرائی سے سمجھنا تھا۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
اپنے خطاب میں صدر نے ورکشاپ کی کامیاب تکمیل پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی کے شعور کو مضبوط بنانے میں اُن کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے موجودہ قومی سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بصیرت افروز قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا۔
نیشنل سکیورٹی ورکشاپ، قومی سطح پر مکالمے کے فروغ، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، اور پورے ملک کی سطح پر یکساں قومی سلامتی کے نقطۂ نظر کو مضبوط بنانے کا ایک نمایاں پلیٹ فارم ہے۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
آخر میں صدرِ پاکستان نے شرکا میں اسناد بھی تقسیم کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔