ہماری زندگی کا مقصد دنیا میں اللہ کی رضاحاصل کرنا ہے، اورنگزیب بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)ٹنڈوجا م پریس کلب کے صدر اورنگ زیب بھٹو نے کہا ہے ہماری زندگی کا مقصد اس دنیا میں اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنا ہے اور جس انسان کو اللہ تعالی اپنے گھر کی حاضری کی طاقت عطا فرمائے اسے فوراًعمرہ یا پھر حج کی تیاری کرنی چاہیے یہ بات انھوں نے عمرے سے واپسی پر پریس کلب ٹنڈوجام کے ممبران سے جو انھیں مبارک باد دینے آئے تھے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے جب ہم لوگوں جسمانی طاقت دی اور مالی طور بھی اگر مستحکم کیا ہو تو پھر اللہ کے گھر کی زیارت فوراًکرنی چاہیے یہ زیارت ہر مسلمان پر فرض ہو جاتی ہے اور جو طاقت اور مال رکھنے کے باوجود اللہ کے گھر کی زیارت نہ کرے تو حدیث مبارکہ کے مطابق وہ عیسائی یا یہودی ہو کر مرا اس حج اور عمر کرنے کے لئے ہمیں دل میں تڑپ رکھنی چاہیے وسائل اللہ تعالیٰ خود پیدا فرما دے گا اس موقع پر سلیم کے کے عبداللہ ویسر اختر آرائیں کونسلر عظمت ابڑو معراج بھٹو راوحامد گوہر علی محمد جمالی عمران سوھو حاکم علی زرادری واجد چانڈیو منصف تالپور پیر بخش سمعوں سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے علاوہ ازیں یونین کونسل حاجی ساون خان گوپانگ کے کونسلر شاہ نواز زرداری بھی عمرہ کی ادائیگی سے آنے پر انھیں مبارکباد پیش کی۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اللہ تعالی
پڑھیں:
والدین اور استاد
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-03-4
امیر محمد کلوڑ
سیدنا محمد مصطفی احمد مجتبیٰؐ کی ذاتِ گرامی کے ایسے ایسے پہلو ہیں کہ جن کو پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے، اہل مغرب تو نبی پاکؐ کے زندگی گزارنے کے ہر پہلو پر ریسرچ کر کر کے تھک گئے ہیں ہمیشہ ان کو ایک نیا سائنسی مگر مثبت پہلو نظر آتا ہے جس سے وہ لوگ انگشت بداں ہیں کہ یہ کون سی شخصیت تھی جن کے ایسے حیران کن پہلو ہیں ان کی ذات کے کہ جن جن پہلوئوں پر بھی کڑی سے کڑی نظر ڈالیں تو پرفیکشن کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا چاہے ان کی ذاتی زندگی ہو، انداز سیاست ہو، جنگی حکمت عملی ہو، رہن سہن، کھانا پینا ہو، معاشرتی پہلو ہوں ماشاء اللہ وہ ہر جگہ سب سے بلند اور پرفیکٹ ہیں۔ اسی لیے تو کائنات کی سب سے سچی کتاب قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا ہے لَقَد کَانَ لَْم فِی رَسْولِ اللّٰہِ اْسوَۃٌ حَسَنَۃ (سورۃ الاحزاب، آیت 21)
تو آئیے چلتے ہیں، میرے ماں باپ ان پر قربان ان کی زندگی کے دلچسپ اور انوکھے پہلو پر۔ ’’دنیا میں دو ایسی عظیم اور بلند مرتبہ ہستیاں ہیں جن کے احسانات کا حق کوئی انسان تمام عمر بھی ادا نہیں کر سکتا: والدین، جن کی شفقت سایہ رحمت ہے، اور استاد، جن کی رہنمائی انسان کی زندگی کو روشن راہوں کی طرف لے جاتی ہے‘‘۔ اور اب جو میں نایاب الفاظ کہنے جا رہا ہوں جو خالصتاً میرے تخلیق شدہ ہیں وہ آپ نے اب تک نہ کسی کتاب میں پڑھے ہوں گے اور نہ ہی کسی ذی روح سے سنے ہوں گے کیونکر کہ: اللہ جل جلالہ کو مکہ کے یتیم بچے اور رہتی دنیا تک سب سے زیادہ عاجزی کے پیکر، جن کے لیے حضرت حق نے کہا کہ اے محبوب اگر تمہیں اس دنیا میں پیدا نہ کرتا تو میں اس کائنات کو کبھی نہ بناتا، تو وہ الفاظ جو اللہ پاک نے میرے دل میں ڈالے وہ یہ ہیں کہ: ’’اللہ پاک نے یہ دونوں رشتے اپنے پیارے نبیؐ کو نہیں دیے، آپ دونوں سے مبرا تھے آپ کہیں گے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے تو وہ ایسے کہ رحمت اللعالمین کے والد محترم کا انتقال تو آپؐ کی اس دنیا میں آمد سے قبل ہوگیا تھا اور جہاں تک بات ہے بی بی آمنہ والدہ ماجدہ کی تو آپ کی عمر 6 سال بعض کتب میں 9 سال آئی ہے تو اس وقت آپ تو صغیر سنی کی عمر میں تھے، یعنی کہ آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی، تو آپ پر نہ والد کی ذمے داری تھی کہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا اور نہ والدہ کی ذمے داری تھی بلکہ اس عمر میں تو آپؐ خود والدہ کی ذمے داری یا زیر نگرانی تھے، یعنی آپ غیر مکلف تھے۔
تو جو الفاظ اسلامی کتب میں آتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی انسان ماں باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا تو ’’یہ عبارت نبی اکرمؐ کی ذاتِ اقدس پر صادق نہیں آتی، کیونکہ آپؐ کے والدین کا انتقال آپؐ کے اوائل ِ طفولیت ہی میں ہو گیا تھا‘‘۔
یعنی کہ ربّ ذوالجلال کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ کل کلاں کو کفار آقائے دو جہاں کو یہ طعنہ دیں کہ آپ کے دین میں تو اتنا مقام ہے والدین کا تو اس طرح تو آپ بھی اپنے والدین کا حق ادا نہیں کرسکے، تو یہ جملے سننا بھی اللہ نے اپنے محبوب کے لیے پسند نہیں فرمائے اور وہ یہ نوبت ہی نہیں لائے۔
اب آتے ہیں دوسری ہستی یعنی استاد پر۔ آپ اس کائنات کی کوئی سی بھی کتاب اٹھالیں، چاہے وہ احادیث کی ہو، تفسیر ہو، فقہ کی ہو، کسی بھی مسلک کی ہو یا کسی بھی مذہب کی، چاہے وہ عیسائیت ہو، یہودیت ہو، ہندو مت ہو، یہ آپ کو کہیں لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ مسلمانوں کے آخری نبیؐ نے کسی اسکول، مدرسہ، کالج، یونیورسٹی، دارالعلوم سے تعلیم حاصل کی ہو اور فلاں فلاں حضرات ان کے استاد رہے۔ یہ آپ کو دنیا کی کسی بھی کتاب میں نہیں ملے گا آپ کتنی بھی ریسرچ کریں لیکن آپ ناکام ونامراد ہی لوٹیں گے۔
یہاں تک کہ احادیث کتب میں آیا ہے کہ جب اللہ پاک نے آپ پر پہلی وحی نازل فرمائی تھی تو جب جبرائیل امین نے پہلی دفعہ اقرا کہا یعنی پڑھ تو آپؐ خاموش رہے، پھر دوسری مرتبہ اقرا کہا آپؐ خاموش رہے اور جب تیسری مرتبہ اقرا باسم ربک الذی خلق، تو پھر آپؐ نے پڑھا، تو اس پر محدثین کرام اور فقہاء کرام اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ پہلی مرتبہ اقرا پڑھ لیتے تو جبریل امین تھوڑے بہت استاذ کے ذمرے میں آسکتے تھے لیکن آپ نے پہلی دفعہ اور دوسری مرتبہ بھی نہیں پڑھا اور جب تیسری مرتبہ پڑھ اپنے ربّ خالق کے نام سے تو نبی پاکؐ نے پڑھا، تو اس حکمت سے آپ کا کوئی استاذ اس کائنات میں نہیں ہے۔ سوائے اللہ سبحانہ کی ذات کے۔ یعنی کہ: ربّ ذوالجلال کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ کل کو کفار یہ آقائے دو جہاں کو طعنہ دیں کہ آپ کے دین میں تو استاد کا اتنا مقام ہے تو اس طرح تو آپ بھی اپنے استاد کرام کا حق ادا نہیں کرسکے، تو یہ جملے سننا بھی اللہ نے اپنے محبوب کے لیے پسند نہیں فرمائے۔ واہ قربان جائیں ان کے قدموں کی خاک پر، جہاں جہاں ان کے قدم مبارک پڑے تھے۔