بشریٰ بی بی کو رہا کر دینا چاہیے، کیپٹن صفدر کا بڑا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) کے رہنما کیپٹن صفدر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو رہا کرنے کی اپیل کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف ہزارہ سے الیکشن ہارے نہیں، ووٹ گننے میں غلطی ہوئی، کیپٹن صفدر کا دعویٰ
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تصدق اعوان اور کیپٹن صفدر آپس میں محوِ گفتگو ہیں۔ تصدق اعوان نے کیپٹن صفدر سے سوال کیا کہ ان پر مختلف جیلوں میں رہنے کا طویل تجربہ رہا ہے، آپ اڈیالہ جیل میں بھی رہے ہیں جس کا بہت چرچا ہے، آپ نے وہاں بہت اچھا وقت گزارا ہے، سوائے مچھ جیل کے کوئی جیل ایسی نہیں جہاں آپ بند نہ ہوئے ہوں۔
تصدق اعوان نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ اڈیالہ جیل والے کو بھی اب چھوڑیں، لڑائی معاف کریں، رات کو وہاں وزیراعلیٰ آگ جلا کے بیٹھا رہا ہے، اب اسے چھوڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف 5 غدار ججوں کو سزا دو ورنہ قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی، کیپٹن صفدر کی ویڈیو وائرل
جواب میں کیپٹن صفدر نے کہا کہ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ چھوڑ ہی دو بیچارے کو، 75، 76 سال اس کی عمر ہو گئی ہے، میرے خیال میں اب وہ سیاست بھی نہیں کرے گا، انہیں چھوڑ دینا چاہیے۔
کیپٹن صفدر نے کہا کہ اسے (عمران خان) چھوڑیں نہ چھوڑیں لیکن بیبو (بشریٰ بی بی) کو چھوڑ دینا چاہیے، وہ جیل میں تکلیف میں ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کیپٹن صفدر
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔