جج کو اسٹریس لینے کے بجائے اسٹریس دینا چاہیے: جسٹس جواد حسن
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ جج کا کام دباؤ میں آنا نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ دے کر دوسروں کا اسٹریس بڑھانا ہوتا ہے، خود اسے برداشت نہیں کرنا چاہیے۔
لاہور جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جواد حسن نے کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں سب سے مشکل اور حساس کیسز سنے، جن میں کئی سیاسی مقدمات بھی شامل تھے، مگر کبھی ذہنی دباؤ محسوس نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ “جج کو اسٹریس لینا نہیں، اسٹریس دینا چاہیے۔ جج کی قابلیت اس کی کورٹ ہینڈلنگ اور فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے، اسی لیے ٹریننگ کورسز نئے ججز کے لیے بےحد ضروری ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ عدالتوں میں آنے والے 60 فیصد کیسز غلط یا غیر سنجیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں عدالتوں کی جدید تربیت اور طریقۂ کار بدل رہے ہیں، پاکستان کو بھی ایسے کورسز سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد کیسز فیملی معاملات سے متعلق ہوتے ہیں اور ہر جج کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ پہلی ہی سماعت پر غیر ضروری مقدمات کو خارج کرسکے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جسٹس جواد حسن
پڑھیں:
عمران خان سے ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو نہیں ہونی چاہیے، رانا ثنااللہ
وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر آکر پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے نہ ملاقات میں سیاسی گفتگو ہونی چاہیے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہونے دی جا رہی؟
رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کا اپنا مؤقف ہے اور حکومت کا اپنا مؤقف ہے۔ ملاقات ہونی چاہیے لیکن ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں عمران خان کا پیغام ریلیز ہو، پوری دنیا اور پوری پارٹی کے لیے، سیاسی باتیں ہوں، تحریک چلانے اور جلاؤ گھیراؤ کی باتیں ہوں، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی باتیں ہوں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ملاقاتوں میں سیاست ڈسکس نہیں ہو سکتی۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ کوئی بھی جیل میں بیٹھ کر قانون کے مطابق باہر تحریک چلانے کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں جیل میں بیٹھ کر 26 نومبر احتجاج کے لیے تحریک منظم کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی ملاقاتوں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، صرف فیملی ممبرز کی ملاقاتیں ہوتی تھیں، اور فیملی ممبرز کو بھی اجازت نہیں تھی کہ وہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس کریں اور ٹوئٹ کے ذریعے پوری حکومت اور اداروں کو لپیٹیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ملاقاتوں کی اجازت انہی شرائط پر دی تھی کہ ملاقات کریں، میڈیا ٹاک نہ کریں اور سیاست نہ کریں، لیکن پی ٹی آئی والے یہ دونوں کام کر رہے ہیں، اس لیے انہیں روکا گیا لیکن وہ نہیں رکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کام ہوتے ہیں تو جیل سپرنٹنڈنٹ حکومت سے پوچھے گا نہ کہ کیا تماشا کروا رہے ہو، پھر وہ ملاقاتوں پر پابندی لگائے گا۔
رانا ثنااللہ نے آخر میں کہا کہ پی ٹی آئی جیل حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا معاملہ اٹھائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں