وادی کشمیر میں انہدامی کارروائی انسانیت کے بحران کا پیش خیمہ ہے، پی ڈی پی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پی ڈی پی کے لیڈر نے کہا کہ لوگوں کو بے گھر کرنا کوئی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ انسانیت کا بحران ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے جنرل سیکرٹری امتیاز شان نے جموں و کشمیر میں جاری انہدامی کارروائیوں پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ منتخب حکومت کی بے حسی نے درجنوں خاندانوں کو کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور کر دیا ہے، جب کہ وادی سمیت پورے خطے میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے جا چکا ہے۔ امتیاز شان کا اشارہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کی گئی اُس کارروائی کی طرف تھا جس میں صحافی ارفاز احمد ڈینگ کے گھر کو منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے لیڈر نے کہا کہ لوگوں کو بے گھر کرنا کوئی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ "انسانیت کا بحران" ہے۔ انہوں نے کہا کہ جما دینے والی سردی میں لوگوں کے گھروں کو گرایا جا رہا ہے، انہیں بے گھر کیا جا رہا ہے، یہ کسی بھی قانونی یا انتظامی بنیاد پر قابلِ جواز نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انہدامی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شہری یا خاندان کو سردیوں کے دوران بے گھر نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونین ٹیریٹری کی انتظامیہ کو "سزا دینے والی کارروائی" کے بجائے انسانیت اور ہمدردی پر مبنی رویہ اپنانا چاہیئے۔ پی ڈی پی کے جنرل سیکرٹری نے منتخب حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ انہدامی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور کمزور شہریوں کے تحفظ میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی پی نے پہلے ایک لینڈ پروٹیکشن بل پیش کیا تھا تو اسے زمین ہڑپنے والوں کے دفاع کا نام دیا گیا، جس کے نتیجے میں بیوروکریسی کو عام لوگوں کے خلاف کارروائی کا اشارہ ملا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ شدید سردی میں لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب حکومت مودی حکومت کے پیچھے چھپ رہی ہے اور اقتدار میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہون نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ لوگوں کو بے گھر ہونے سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے تو پھر ان کے اقتدار میں رہنے کا مقصد کیا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا۔ امتیاز شان نے کہا کہ پی ڈی پی اس مسئلے کو مسلسل اٹھاتی رہے گی اور حکومت کو جوابدہ بنایا جائے گا تاکہ کوئی بھی شہری جموں و کشمیر میں سردیوں کے دوران بے گھر نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہدامی کارروائی لوگوں کو بے گھر انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی رہا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔