Islam Times:
2025-11-29@05:57:54 GMT

فاروق رحمانی کی جموں میں صحافی کے گھر کو مسمار کرنے کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

فاروق رحمانی کی جموں میں صحافی کے گھر کو مسمار کرنے کی مذمت

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرات مندانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما اورجموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے جموں شہر میں صحافی ارفاز احمد کے گھر کی مسماری کی مذمت کرتے ہوئے بہیمانہ کارروائی کو مقبوضہ علاقے کی اصل تصویر سامنے لانے والے صحافیوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی مودی حکومت کی منصوبہ بند سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بغیر کسی معقول وجہ اور کسی پیشگی اطلاع کے بغیر گھر کی مسماری شدید ناانصافی اور ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرات مندانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے گھروں ،دکانوں کو جلانا، ان کے گلے کاٹنا اور بے قصور لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا مقصد تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں، طلباء، تاجروں کی زندگی کو جہنم بنایا اور مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار کرنا ہے۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں قائم نیشنل کانفرنس کی حکومت بی جے پی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں کو روکنے اور کشمیریوں کے مفادات کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کےخلاف جاری جابرانہ بھارتی پالیسیوں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فاروق رحمانی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

وزیراعلی مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی سخت مذمت

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، دریائے سندھ پر پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کو بھیجی جائے تاکہ قومی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کیا جاسکے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز، بے بنیاد اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف پیش کی گئی مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس قرارداد کو خود بھی پیش کرنا چاہتے تھے کیونکہ بھارتی وزیر دفاع نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید صوبہ سندھ میں ہندو برادری عدم تحفظ کا شکار ہے، جو کہ گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں 1947ء یا انگریز دور کی بات نہیں کر رہا، 624ء میں بھی سندھ موجود تھا، جس میں ملتان اور مکران بھی شامل تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا دارالخلافہ سیہون رہا ہے اور اس خطے کا وجود بہت قدیم ہے، اس وقت کئی موجودہ ممالک وجود میں بھی نہیں آئے تھے جب سندھ ایک پہچان کے ساتھ قائم تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انگریز دور میں سندھ کو سازش کے تحت بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا، تاہم 1936ء میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر جدوجہد کر کے سندھ کو الگ حیثیت دلوائی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ مسلم لیگ کے سندھ چیپٹر نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ اور مودی حکومت کی بوکھلاہٹ حالیہ بھارتی ناکامیوں اور خطے میں سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

مراد علی شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہوں نے سوچا شاید بھارتی وزیر دفاع کو سندھ کا درد اس لیے ہورہا ہو کہ وہ یہاں کے ہوں، مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ راج ناتھ سنگھ اور ان کے والد دونوں بھارتی ریاست اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا، اسی لیے ایسے غیرذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں، سندھو کا پانی پینے والا اپنی دھرتی سے غداری نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنے کی دھمکی بھی مایوسی اور شکست کا اعتراف ہے، بھارت دریاؤں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے جواب کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ سندھو ہمارا ہے اور ہمیشہ ہمارا ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے تجویز دی کہ دریائے سندھ پر پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کو بھیجی جائے تاکہ قومی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کیا جاسکے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، اسے پاکستان سے جدا کرنا تو دور، اس کی سرحدوں میں معمولی تبدیلی بھی ممکن نہیں، سندھ ہمیشہ متحد رہے گا اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قابض انتظامیہ نے کشمیری صحافی عرفاز دانگ کا گھر مسمار کر دیا
  • بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھائونی اور پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے، حریت کانفرنس
  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ، جاوید قصوری
  • وزیراعلی مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی سخت مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن
  • اقوامِ متحدہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بے نقاب،پاکستان کا اظہارتشویش
  • مقبوضہ کشمیر : بھارتی انتظامیہ نے ایک اور کشمیری مسلمان کی جائیداد ضبط کر لی
  • بی جے پی مقبوضہ کشمیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے، پی ڈی پی
  • انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جموں میں ”کشمیر ٹائمز“ کے دفتر پر چھاپے کی مذمت