کشمیری سیاحتی صنعت میں نئی روح پھوکنے کیلئے برفباری بے حد ضروری ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2025ء کا سال کشمیر کے سیاحتی شعبہ کیلئے نیک شگون نہیں رہا، چاہے پہلگام کا واقعہ ہو، دلی دھماکہ ہو یا نوگام سانحہ، ان تمام واقعات نے رواں برس کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں سیاحوں کی آمد بڑھانے اور سیاحتی شعبے کو تقویت و دوام بخشنے کے لئے اس سیزن بھی برفباری سب سے اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ رواں برس سیاحتی شعبے کے لئے کافی مشکل ثابت ہوا ہے۔ ان باتوں کا اظہار وزیراعلیٰ نے سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ ایک بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہیں بھی بزنس ٹو بزنس سرگامیاں ہوتی ہیں وہاں شعبہ سیاحت کو فائدہ پہنچتا ہے، مگر تشہیر اور مارکیٹنگ سیاحت کی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ 2025ء کا سال جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبہ کے لئے نیک شگون نہیں رہا، چاہے پہلگام کا واقعہ ہو، دلی دھماکہ ہو یا نوگام سانحہ، ان تمام واقعات نے رواں برس کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کا مہینہ بھی خشک ہی گزر گیا، ہم سب اب دسمبر میں اچھی برف باری کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
عمر عبداللہ کے مطابق سیاح اب بھی پہلگام سمیت وادی کے مختلف سیاحتی مقامات کا رخ کر رہے ہیں، تاہم تازہ برفباری سے سرمائی سیزن (ونٹر ٹورزم) کے امکانات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمائی سیزن میں سیاحت کو بڑھاوا دینے کے لئے برف باری کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کو امید ہے کہ جاری سال کے آخر اور کرسمس کے موقع پر حالات بہتر دیکھنے کو ملیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎