پاکستان کے مجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایک سال میں زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ہوگیا، اگلےہفتے آئی ایم ایف فنڈز کی منظوری سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر ایک سال میں 2 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ ڈالرز بڑھ گئے ہیں، اسی مدت میں کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 95 کروڑ 37 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دستاویز کے مطابق زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 50لاکھ ڈالرز ہوچکے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر14 ارب56 کروڑ7 لاکھ ڈالرزپر پہنچ گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس5 ارب 4 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔ ایک سال قبل زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 16 ارب 12 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز تھے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 12 ارب 3 کروڑ 79 لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس4 ارب 9 کروڑ 6لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان کے لیےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکا اجلاس8 دسمبرکو شیڈول ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز جاری کرنے کاجائزہ لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے اسٹیٹ بینک لاکھ ڈالرز کے ذخائر
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔