آئی ایس ایس آئی کے انڈیا اسٹڈی سینٹر نے ”تنازعہ کشمیر اور بدلتی ہوئی دنیا“ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے جس میں بی جے پی کی بھارتی حکومت کیطرف سے 05 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی اور یکطرفہ منسوخی کے بعد سے تنازعہ کشمیر کی بدلتی ہوئی جہتوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔”انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد“ (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر نے ”تنازعہ کشمیر اور بدلتی ہوئی دنیا“ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے جس میں بی جے پی کی بھارتی حکومت کیطرف سے 05 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی اور یکطرفہ منسوخی کے بعد سے تنازعہ کشمیر کی بدلتی ہوئی جہتوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 12 ابواب پر مشتمل یہ کتاب پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور کئی غیر ملکی نامور ماہرین تعلیم اور سکالرز کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں مسئلہ کشمیر کی مختلف جہتوں پر بات کی گئی ہے اور تنازعہ کے حوالے سے بھارتی بیانیے کو بھرپور دلائل کیساتھ چیلنج کیا گیا ہے۔ کتاب کی رونمائی میں ممتاز کشمیری رہنما اور ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دیگر مقررین میں سابق سفارتکار بابر امین، کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ولید رسول اور دیگر شامل تھے۔

ڈاکٹر فائی نے کتاب کی اشاعت میں ”آئی ایس ایس آئی“ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر کتابیں یا تو بھارتی مصنفین یا غیر ملکی اسکالروں کی لکھی ہوئی ہیں، جن میں سے بہت سے مصنفین بھارتی بیانیہ کی طرف زیادہ جھکاو رکھتے ہیں، وہ کشمیری عوام کے دکھ درد کو یکسر نظرانداز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بنیادی طور پر لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں کا مسئلہ ہے، یہ علاقائی مسئلہ ہرگز نہیں ہے۔ ڈاکٹر فائی نے کہا کہ دنیا کشمیر کے مقدمے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتی ہے اور کشمیر کاز کے لیے ہمدردی رکھتی ہے تاہم دنیا کے اس منصفانہ موقف کو ایک موثر وکالت اور بھرپور سفارتی اقدامات کے ذریعے مزید موثر انداز سے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کشمیریوں کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت پر پاکستانی عوام اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

بابر امین نے کتاب کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف جموں و کشمیر تنازعہ کی سیاسی اور قانونی جہتوں کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے بلکہ اس میں ایک بڑے انسانی المیے، بین الاقوامی کردار، خطے میں امن و انصاف اور انسانی وقار جیسے معاملات کا احسن انداز سے احاطہ کیا گیا ہے۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ کتاب میں ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں جموں و کشمیر کے بارے میں بے بنیاد اور جھوٹے بھارتی بیانیے کا بھرپور طریقے سے کاﺅنٹر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ولید رسول نے کتاب کو کشمیر پر موجودہ تحقیقی مواد میں ایک خوش آئند اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت ایک اور غزہ ہوتا۔

”آئی ایس ایس آئی“ کے ڈائریکٹر جنرل سہیل محمود نے کتاب کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مقبوضہ کشمیر کی اصل تصویر اور تنازعہ کشمیر کی اصل حقیقت کو سمجھنے میں ممد و معاون ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کتاب میں مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں، سیاسی ہیرا پھیریوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی کوششوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تمام مسائل کا بات چیت کے ذریعے حل میں یقین رکھتا ہے۔ ”آئی ایس ایس آئی“ کے ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سنٹر ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ یہ کتاب تنازعہ کشمیر کے مختلف پہلووں کو اس کے حقیقی تناظر میں سامنے لانے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔

آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز خالد محمود نے کہا کہ کتاب ایک ایسے موضوع پر ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کے تمام آزادی پسند لوگوں کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کو اقوام متحدہ نے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے، کشمیریوں کی جدوجہد ایک روز ضرور رنگ لائے گی اور انہیں یہ حق مل کر رہے گا۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئی ایس ایس آئی انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ کتاب کشمیریوں کی ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی کیا گیا ہے کشمیر کی نے کتاب

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب