رپورٹ: مصنوعی ذہانت اگلے چند سالوں میں لاکھوں افراد کو بے روزگار کر سکتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے استعمال کے سبب آئندہ دہائی میں تقریباً 30 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔
نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن ریسرچ (NFER) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو وہ مہارتیں سکھائی جائیں جو انہیں مستقبل کے ملازمت کے ماحول میں برقرار رکھ سکیں۔
رپورٹ میں ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بے روزگاری کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، جن میں ایڈمنسٹریٹیو، سیکریٹریل، کسٹمر سروس اور مشین آپریٹرز شامل ہیں۔
این ایف ای آر نے مزید خبردار کیا کہ خطرہ صرف موجودہ ملازمین تک محدود نہیں بلکہ وہ نوجوان بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں جو کسی ہنر کے بغیر تعلیم مکمل کیے بغیر کام کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دلہے نے جہیز میں لاکھوں روپے لینے سے انکار کرکے باراتیوں کے دل جیت لیے
بھارت کے مظفرنگر میں ایک 26 سالہ دلہے نے شادی کی تقریب میں سسرال کی جانب سے دیے جانے والے 31 لاکھ بھارتی روپے (قریباً 97 لاکھ پاکستانی روپے) جہیز کے طور پر لینے سے انکار کر دیا۔
دلہے نے صرف ایک روپیہ بطور شگون قبول کیا اور کہا کہ یہ دلہن کے والد کی محنت کی کمائی ہے، جسے وہ قبول نہیں کر سکتا۔
مزید پڑھیں: دلہا کے ساتھ انوکھا فراڈ، برات لے کر پہنچا تو دلہن کہیں اور بیاہی گئی تھی
تقریب میں موجود مہمانوں کے مطابق دلہے کے اس اقدام نے سب کو حیران کر دیا اور روایت سے ہٹ کر ایک دل کو چھو لینے والی مثال قائم کی۔
دلہے کے والدین نے اس فیصلے کی مکمل حمایت کی، جبکہ دلہن کے اہلِ خانہ نے دل سے شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: قصور میں انوکھا واقعہ: دلہا ریسکیو 1122 کی کشتی میں دلہن لینے پہنچ گیا
شادی کی دیگر رسومات خوشی کے ساتھ مکمل ہوئیں اور دلہے کے اس قدم کو جہیز کے خلاف مضبوط پیغام قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکار بھارت جہیز میں لاکھوں روپے دلہا، دلہن مظفرنگر