پختونخوا حکومت کا ہری پور ضمنی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ہری پور میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات، شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الیکشن کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلاس فور عملے سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک سب کی سطح پر تحقیقات ہوں گی، اور جو بھی ملوث پایا گیا اسے سخت سزا دی جائے گی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ماتحت افسر ملوث نہیں، لیکن شفافیت کے لیے انکوائری ضروری ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نے انتخابات کا بہترین انعقاد کیا جس کی مثال کم ملتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت الیکشن کمیشن کو ہری پور الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق ریفرنس بھی بھیج رہی ہے۔ ساتھ ہی پریزائیڈنگ افسران کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں اور ان سے بیانِ حلفی بھی لیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان کی اہلیہ کو شکست دی تھی۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا تھا کہ ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو 25 ہزار ووٹوں سے برتری حاصل تھی، لیکن فارم 47 میں ناکام قرار دے دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہری پور
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔