data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ہری پور میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات، شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الیکشن کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلاس فور عملے سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک سب کی سطح پر تحقیقات ہوں گی، اور جو بھی ملوث پایا گیا اسے سخت سزا دی جائے گی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ماتحت افسر ملوث نہیں، لیکن شفافیت کے لیے انکوائری ضروری ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نے انتخابات کا بہترین انعقاد کیا جس کی مثال کم ملتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت الیکشن کمیشن کو ہری پور الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق ریفرنس بھی بھیج رہی ہے۔ ساتھ ہی پریزائیڈنگ افسران کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں اور ان سے بیانِ حلفی بھی لیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان کی اہلیہ کو شکست دی تھی۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا تھا کہ ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو 25 ہزار ووٹوں سے برتری حاصل تھی، لیکن فارم 47 میں ناکام قرار دے دیا گیا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہری پور

پڑھیں:

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ

راولپنڈی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا مشاورتی اجلاس کے بعد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نمازِ فجر کے فوراً بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان علامہ ناصر عباس کی آمد اور اُن سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی نے شرکت کی، جس میں فیصلہ ہوا کہ کارکنوں کو منگل کے روز دوبارہ احتجاج کے لیے کال دی جائے گی جبکہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی بھرپور احتجاج کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشاورت کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دھرنے کے مقام سے روانہ ہوگئے جبکہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی سرد موسم میں سڑک کنارے آگ کے پاس بیٹھے رہے۔
محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دھرنا کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا بلکہ وزیرِاعلیٰ کے اس یقین کے بعد سامنے آیا کہ عدالتیں ایک صوبائی سربراہ کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دیں گی، مگر یہاں شرافت کی زبان سمجھنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ایک جمہوری پشتون کی حیثیت سے دھرنا دیا ہے اور یہ ممکنہ طور پر عدالتی حکم تک جاری رہے گا۔ انہوں نے حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’پانچ ہزار تین سو ارب کے چور‘‘ اور ’’مینڈیٹ چور‘‘ قرار دیا اور پی ٹی آئی قیادت کو تجویز دی کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات کرانی ہے تو عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائی روک دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ بانی چیئرمین جیل میں ہیں اور ہم اسمبلیوں میں کارروائی چلنے دیں۔
وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق عدالت کے واضح حکم کے باوجود نہ انہیں اور نہ دیگر رہنماؤں کو بانی چیئرمین سے ملنے دیا گیا، جبکہ پہلے ان کی بہنوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں اڈیالہ روڈ پر بالوں سے پکڑ کر بے عزت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بانی چیئرمین کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور بشریٰ بی بی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں لندن جانے والوں سے درجنوں لوگ ملاقات کرتے تھے۔ انہوں نے عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے ہی احکامات پر عملدرآمد نہیں کرواتیں تو ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے گا اور ہر کوئی اپنا انصاف خود کرنے لگے گا جس سے ملک کو شدید نقصان پہنچے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ فجر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں بتائیں گے کہ تین ججز پہلے ہی ملاقات کی اجازت سے متعلق واضح حکم دے چکے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کےپی حکومت کا ہری پور ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ
  • مصطفیٰ نواز کھوکھر: آئی ایم ایف نے حکومت کے نظام کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا
  • ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن
  • وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
  • وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا پیٹرول موٹر سائیکل اور رکشوں کی پیدوار بند کرنیکا فیصلہ
  • ضمنی انتخاب سے پشاور حملے تک
  • الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے
  • وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف کیس: الیکشن کمیشن 4 دسمبر کو سماعت کرے گا