دو نوجوانوں نے حریم فاروق کو کیسے بچایا؟ اداکارہ نے اپنے بچپن کا واقعہ سنادیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کراچی:
معروف اداکارہ حریم فاروق نے اپنے بچپن کا حیران کن واقعہ بیان کردیا جس میں وہ ناراض ہوکر گھر سے نکل گئی تھیں۔
نجی ٹی وی کے کامیڈی شو میں گفتگو کرتے ہوئے حریم فاروق نے بتایا کہ وہ آٹھ سال کی عمر میں بغیر بتائے گھر سے نکل گئی تھیں جس کے بعد اہلخانہ نے انہیں “گمشدہ” سمجھ کر پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرانے کیلئے رجوع کر لیا۔
حریم فاروق نے بتایا کہ وہ بچپن میں پھوپھو کے گھر جانا چاہتی تھیں اور ڈرائیور کے نہ لے جانے پر خود ہی گھرسے نکل پڑیں۔ راستے میں ایک بزرگ نے انہیں روکا اور پوچھا کہاں جا رہی ہو، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’پھوپھو کے گھر‘‘ اور معصومیت میں اپنی عمر آٹھ سال بتاتے ہوئے کہا کہ میں میٹرک میں ہوں۔
اداکارہ کے مطابق جب وہ منزل کے قریب تھیں تو دو نوجوانوں نے انہیں دیکھا اور پوچھا کہ کیا والدین کو معلوم ہے؟ حریم نے نفی میں جواب دیا تو وہ نوجوان انہیں فوراً گھر واپس لے آئے۔
حریم نے بتایا کہ اسی دوران ان کے والدین انہیں تلاش کرتے کرتے پولیس اسٹیشن پہنچ چکے تھے تاکہ گمشدگی کی رپورٹ درج کرائیں۔ گھر واپسی پر ان کے دادا نے پہلی بار ان کو ڈانٹ پلائی اور تھپڑ بھی لگایا اور آئندہ بغیر بتائے گھر سے نہ نکلنے کی سخت تاکید کی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے اور انہوں نے اسی دن فیصلہ کیا تھا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کریں گی۔
شو میں ایک اور دلچسپ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب حریم نے بتایا کہ اسکول کے دور میں ان کا نک نیم ’لالا‘ تھا۔ وہ لڑکوں کے ایک گروپ میں واحد لڑکی تھیں اس لیے سب انہیں احترام سے لالا کہتے تھے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ حریم فاروق
پڑھیں:
سیدہ ام سُلیمؓ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سہلہ یا رملہ نام، ام سُلیم کنیت غمیصاء اور رمیصاء لقب۔ (دُور کے رشتے کی وجہ سے) ام سلیمؓ آپؐ کی خالہ مشہور ہیں۔
آپ کا پہلا نکاح مالک بن نضر سے نکاح ہوا۔ مدینہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور ام سلیمؓ تبدیلی مذہب پر اصرار کرتی تھیں، اس لیے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا۔ ابو طلحہ نے، جو اسی قبیلے سے تھے، نکاح کا پیغام دیا، لیکن ام سلیم کو اب بھی وہی عذر تھا یعنی ابو طلحہ مشرک تھے، اس لیے وہ ان سے نکاح نہیں کر سکتی تھیں۔
غرض ابو طلحہ نے کچھ دن غور کر کے اسلام کا اعلان کیا اور ام سلیم کے سامنے آکر کلمہ پڑھا۔ سیدہ ام سلیم نے سیدنا انسؓ سے کہا کہ اب تم ان کے ساتھ میرا نکاح کر دو اور ساتھ ہی مہر معاف کر دیا اور کہا ”میرا مہر اسلام ہے“۔ انسؓ کہا کرتے تھے کہ یہ نہایت عجیب و غریب مہر تھا۔
عام حالات
نکاح کے بعد سیدنا ابو طلحہؓ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی۔ اور چند ماہ کے بعد جناب رسالت مآبؐ مدینہ میں تشریف لائے۔ سیدہ ام سلیم اپنے صاحب زادے (سیدنا انسؓ) کو لے کر حضور کی خدمت میں آئیں اور کہا: انیس کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، یہ میرا بیٹا ہے، آپ اس کے لیے دعا فرمائیں، آپؐ نے دعا فرمائی (صحیح مسلم، صحیح بخاری)
غزوہ احد میں جب مسلمانوں کے جمے ہوئے قدم اکھڑ گئے تھے، وہ نہایت مستعدی سے کام کر رہی تھیں۔ صحیح بخاری میں سیدنا انسؓ سے منقول ہے کہ ”میں نے سیدہ عائشہؓ اور ام سلیمؓ کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں، مشک خالی ہو جاتی تھی تو پھر جا کر بھر لاتی تھیں“ (صحیح بخاری، کتاب المغازی)۔
5ھ میں آپؐ نے سیدہ زینبؓ سے نکاح کیا، اس موقع پر ام سلیمؓ نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر انسؓ کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ آنحضرتؐ سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کو قبول فرمائیں۔
غزوہ حنین میں وہ ایک خنجر ہاتھ میں لیے تھیں۔ ابو طلحہؓ نے دیکھا تو آنحضرتؐ سے کہا کہ ام سلیم خنجر لیے ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کیا کرو گی؟ بولیں ”اگر کوئی مشرک قریب آئے گا تو اس سے اس کا پیٹ چاک کردوں گی“۔ آپؐ یہ سن کر مسکرا دیے۔ ام سلیمؓ نے کہا یا رسول اللہ! مکہ کے قریب جو لوگ فرار ہو گئے ہیں ان کے قتل کا حکم دیجیے، ارشاد ہوا ”خدا نے خود ان کا انتظام کر دیا ہے“ (صحیح مسلم)۔
وفات
سیدہ ام سلیمؓ کی وفات کا سال اور مہینہ معلوم نہیں، لیکن قرینہ یہ ہے کہ انہوں نے خلافت راشدہ کے ابتدائی زمانے میں وفات پائی ہے۔
اولاد
جیسا کہ اوپر معلوم ہوا انہوں نے دو نکاح کیے تھے۔ پہلے شوہر سے سیدنا انسؓ پیدا ہوئے، سیدنا ابو طلحہؓ سے دو لڑکے پیدا ہوئے، ابو عمیر اور عبداللہ۔ ابو عمیر صغر سنی میں فوت ہو گئے اور عبداللہ سے نسل چلی۔
اخلاق
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ محبت کرتی تھیں۔ آپ اکثر ان کے مکان پر تشریف لے جاتے اور دوپہر کو آرام فرماتے تھے۔ جب بستر سے اٹھتے تو وہ آپ کے پسینے اور ٹوٹے ہوئے بالوں کو ایک شیشی میں جمع کرتی تھیں (صحیح بخاری)۔
ایک مرتبہ آپؐ نے ان کی مشک سے منہ لگا کر پانی پیا تو وہ اٹھیں اور مشک کا منہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا کہ اس سے رسولؐ کا دہن مبارک مس ہوا ہے (مسند)۔
سیدہ ام سلیمؓ نہایت صابرہ اور مستقل مزاج تھیں۔ ابو عمیر ان کا بہت لاڈلا اور پیارا بیٹا تھا، لیکن جب اس نے انتقال کیا تو نہایت صبر سے کام لیا اور گھر والوں کو منع کیا کہ ابو طلحہؓ عنہ کو اس واقعے کی خبر نہ دیں، رات کو ابو طلحہؓ آئے تو ان کو کھانا کھلایا اور اطمینان سے بستر پر لیٹے، کچھ رات گزرنے پر ام سلیمؓ نے واقعے کا تذکرہ کیا، لیکن عجیب انداز سے بولیں اگر تم کو کوئی شخص عاریۃً ایک چیز دے اور پھر اس کو واپس لینا چاہے تو کیا تم اس کے دینے سے انکار کرو گے؟ ابو طلحہ نے کہا کبھی نہیں، کہا تو اب تم کو اپنے بیٹے کی طرف سے صبر کرنا چاہیے۔ ابو طلحہؓ یہ سن کر غصے ہوئے کہ پہلے کیوں نہ بتایا؟ صبح اٹھ کر آنحضرتؐ کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: خدا نے اس رات تم دونوں کو بڑی برکت دی (صحیح مسلم)۔
اسی طرح ایک مرتبہ ابو طلحہؓ آئے اور کہا رسول اللہ بھوکے ہیں۔ کچھ بھیج دو۔ ام سلیم نے چند روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر انسؓ کو دیں کہ آنحضرتؐ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ آپ مسجد میں تھے اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انس کو دیکھ کر فرمایا، ابو طلحہ نے تم کو بھیجا ہے؟ بولے جی ہاں، فرمایا کھانے کے لیے؟ کہا: ہاں۔ آپؐ تمام صحابہ کو لے کر ابو طلحہؓ کے مکان پر تشریف لائے، ابو طلحہؓ دیکھ کر گھبرا گئے اور ام سلیمؓ سے کہا اب کیا کیا جائے؟ کھانا نہایت قلیل ہے اور آنحضرتؐ ایک مجمع کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔ ام سلیم ؓ نے نہایت استقلال سے جواب دیا: ان باتوں کو خدا اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرتؐ اندر آئے تو ام سلیمؓ نے وہی روٹیاں اور سالن سامنے رکھ دیا۔ خدا کی شان! اس میں بڑی برکت ہوئی اور سب لوگ کھا کر سیر ہو گئے (صحیح بخاری)۔
سیدہ ام سلیمؓ کے فضائل ومناقب بہت ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ میں جنت میں گیا تو مجھ کو آہٹ معلوم ہوئی، میں نے کہا: کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انس کی والدہ غمیصاء بنت ملحان ہیں (صحیح بخاری)۔