سریاب کے قریب ریلوے ٹریک تباہ‘ ٹرینوں کی آمدورفت معطل
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ) سریاب کے علاقے میں ریلوے ٹریک تباہ کر دیا گیا۔ ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس بم ڈسپوزل سکواڈ کی نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اس سے قبل، کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے رپورٹ ہوئے جس میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا بم دھماکا قمبرانی روڈ کے نزدیک اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔ دوسرا دھماکا، جو ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، اسی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شرپسند عناصر نے پہلے دھماکے کی جگہ کی طرف جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔