data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی:جماعت اسلامی ہند نے کہا ہے کہ دہلی دھماکے کی آڑ میں مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا بند کیا جائے۔

 جماعت اسلامی ہندکے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہر طرح کی انتہاپسندی اور تشدد کی دوٹوک مذمت دہراتے ہوئے متعدد قومی مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی، جن پر فوری حکومتی توجہ درکار ہے۔

دہلی دھماکے پر امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم اس وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں جس میں بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔

 جماعت ہر قسم کی انتہاپسندی، تشدد اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرتی ہے خواہ مجرم کوئی بھی ہو اور اس کا مقصد کچھ بھی ہو۔

 انہوں نے کہا کہ خودکش حملے اور بڑے پیمانے پر تشدد انسانی احترام، اخلاق اور تہذیب کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ہر شہری اور ادارے کو دہشت گردی کی مخالفت میں مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے لال قلعہ میں ہوئے دھماکے اور حال ہی میں سرینگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے بارودی دھماکے سے ظاہر ہونے والی سنگین سیکورٹی خامیوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان واقعات میں 9 لوگ جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثے سیکورٹی نظام میں جاری کمزوریوں کی واضح علامت ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے میڈیا کی جانب سے کسی ایک کمیونٹی(مسلم) کو بدنام کرنے کے رویے پر بھی افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ ایسے بیانات سماج میں انتشار پیدا کرتے ہیں اور دہشت گردوں کے مقصد کو تقویت دیتے ہیں۔

فضائی آلودگی کے شدید بحران پر حسینی نے عارضی اقدامات کے بجائے ملک گیر سائنسی بنیادوں پر مستقل شفاف ہوا کی حکمت عملی اپنانے کی اپیل کی۔

 انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستیں مل کر ایکشن لیں، انڈسٹری اور وہیکلز کے قوانین سختی سے نافذ کیے جائیں، کسانوں کو فصل کے باقیات جلانے کے متبادل بہتر حل دیے جائیں اور صاف پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام کی صحت اور روزگار محفوظ رہ سکے۔

وقف رجسٹریشن کے معاملے پر انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند نے ایک سینٹرل وقف ہیلپ ڈیسک اور اسٹیٹ وقف سیل قائم کیا ہے۔

اس میں تقریباً 150 تربیت یافتہ رضاکار، ورکشاپ، ہیلپ لائن اور فیلڈ میں تعاون کا انتظام ہے تاکہ متولیوں کو امید پورٹل پر اپ لوڈ مکمل کرنے میں مدد دی جا سکے۔

 انہوں نے حکومت سے رجسٹریشن کی مدت بڑھانے اور پورٹل کی تکنیکی خامیوں کو فوری طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے کسی وقف جائداد کو نقصان نہ پہنچے۔

 انہوں نے وقف ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے جماعت اسلامی ہند کے اصولی اعتراض کو دوہرایا اور کہا کہ یہ ایکٹ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور آئینی اخلاقیات کے منافی ہے۔

ایس آئی آر پر سعادت اللہ حسینی نے بتایا کہ بی ایل اوز پر غیرمعمولی بوجھ، اموات، شدید ذہنی دباو ¿ اور عمل میں شفافیت کی کمی کے بارے میں رپورٹیں تشویش ناک ہیں۔

جماعت کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کی حد واضح کرے (یہ شہریت جانچ مہم نہیں ہے)، اسٹاف بڑھائے، ٹائم لائن میں توسیع دے، فیلڈ عملہ کے لیے ذہنی صحت اور طبی سہولتیں فراہم کرے اور آزاد نگرانی کے ساتھ شفاف شکایت نظام قائم کرے۔

پریس کانفرنس سے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر اور ملک معتصم خان نے بھی خطاب کیا۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا