مودی سرکارکےخلاف جمعیت علمائےہند نےحق کی آوازبلند کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھوپال:ہندوتوا توا کی پیروکار مودی سرکار کی مسلم دشمنی کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے حق کی آواز بلند کردی ہے۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسد مدنی نے جہاد کے تصور کو حق قرار دیتے ہوئے اسے اسلام کا مقدس فریضہ بتایا۔
انہوں نے موجودہ حکومت کی مسلم مخالف سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے’لو جہاد، لینڈ جہاد، تھوک جہاد‘ جیسے الفاظ کے استعمال پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ان کا مقصد مسلمانوں کی توہین اور بدنامی ہے۔
مولانا مدنی نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ اور بھارتی عدلیہ کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بابری مسجد اور تین طلاق کے معاملات میں عدالتیں مرکزی حکومت کے دباو ¿ میں کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے علمواپی اور ماتھرا کے معاملات کی سماعت پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ سب عبادتگاہ قانون (Places of Worship Act, 1991) کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے، جو آئین کے اصولوں کے خلاف ہے۔
مولانا مدنی نے سپریم کورٹ کی سربراہی کو ایک شرط سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت ہی سپریم کہلانے کا حق رکھتی ہے جب وہ آئین کی پابندی کرے، اور اگر ایسا نہ کرے تو سپریم کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔
انہوں نے زور دیا کہ عدلیہ کی آزادی سے سمجھوتہ ملک کے جمہوریت کے لیے خطرناک ہے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ کا آئینی فریضہ ہے۔
بھوپال میں جمعیت کی گورننگ باڈی کونسل کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے مولانا مدنی نے براہ راست عدلیہ پر حکومت کے دباو ¿ میں کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کو سپریم کہلانے کا حق نہیں جب تک کہ وہ آئین کی پابندی کرے۔
مولانا محمود مدنی نے اسلام کے پیروکاروں سے جوڑے جانے والے ’جہاد‘ کے لفظ پر مسلم کمیونٹی کا موقف پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کے دشمنوں نے جہاد کے لفظ کو تشدد اور نفرت کے مترادف بنا دیا ہے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک پاک فریضہ ہے۔
مولانا مدنی نے جہاد کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا، ”جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔ میں اسے دوبارہ دہراتا ہوں، جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔“
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا مدنی نے سپریم کورٹ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز