مراد علی شاہ: سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کی تقسیم کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔
ڈان نیوز کے مطابق مراد علی شاہ دو روزہ دورے پر بھان سید آباد پہنچے، جہاں انہیں کمشنر حیدرآباد اور ڈی آئی جی حیدرآباد نے استقبال کیا۔ انہوں نے چیف شمن رہپوٹو اور سینئر صحافی آدم مینگل سے ان کے اہل خانہ کے انتقال پر تعزیت بھی کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنو اور دوسرے کان سے نکال دو۔ پاکستان اور سندھ کے مفاد کے خلاف کچھ بھی پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی۔”
وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ گورنر کی تقرری وزیراعظم اور صدر کے اختیار میں ہے اور صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں، اور گورنروں کی تقرری میں پیپلز پارٹی سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔
مراد علی شاہ بھان سید آباد میں عوامی ملاقاتوں اور یوسی بوبک کے چیئرمین مخدوم ضمیر حسین کی دعوت پر بھی شریک ہوں گے، جبکہ اتوار کی صبح وہاڑ میں عوام سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے کراچی میں بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا، “اللہ کے علاوہ کسی میں طاقت نہیں کہ سندھ کو پاکستان سے الگ کرسکے۔”
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ
پڑھیں:
پاور سیکٹر کا گردشی قرض 735 ارب اضافے سے 23 سو ارب روپے ہونے کا خدشہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) رواں مالی سال کے دوران پاور سیکٹر گردشی قرضہ 735 ارب روپے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ذرائع کے مطابق گردشی قرضہ 1615 ارب سے بڑھ کر دوبارہ ساڑھے 23 سو ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے، ریبیسنگ، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم اور ریکوریز بہتر کرنے سے 212 ارب کم بڑھے گا۔ بتایا گیا ہے کہ 522 ارب باقی گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے120 ارب روپے کی پرنسپل ری پیمنٹس ہوں گی، 400 ارب روپے حکومتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو دے کر سٹاک زیرو رکھا جائے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ زیرو ان فلو رکھنا ہو گا، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق سالانہ ریبیسنگ کی مد میں 55 ارب روپے وصول ہوں گے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کرنے سے 18 ارب روپے اکٹھے ہوں گے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوریز بہتر کرنے کے بعد 121 ارب روپے کی ریکوری ہوگی، ان تمام اقدامات کے بعد رواں مالی سال گردشی قرضہ کو زیرو ان فلو پر رکھا جائے گا۔