ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے رعایت کے مستحق نہیں، انہیں شخصی ضمانت پر رہا نہ کیا جائے: آئی جی پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں گرفتار کر کے حوالات میں بند کیا جائے۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے ملزمان کو حوالات میں رکھاجائے اور کسی کو بھی شخصی ضمانت پررہا نہ کیا جائے، حوالات میں بند افراد عدالت سے ضمانت کے بعد ہی رہا ہوں گے۔ٹریفک ریکارڈ کے مطابق ٹریفک قوانین توڑنے والے 1390 افراد گرفتار ہیں۔خیال رہے کہ دو روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی پنجاب میں ٹریفک پولیس والوں کوایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہا تھا اگر ٹریفک سسٹم میں بہتری نہ آئی تو پھر ٹریفک پولیس کا متبادل محکمہ لانا پڑے گا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین
پڑھیں:
بھارت میں دوسری شادی پر پابندی، قانون کی خلاف ورزی پر 10 سال قید اور بھاری جرمانہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت ایک سے زائد شادیوں کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد پہلی شادی کے موجود ہونے کے باوجود دوسری شادی کرنے والے افراد کو سات سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ اگر پہلی بیوی کی اجازت نہ لی گئی ہو تو سزا میں اضافہ ممکن ہے۔
بل کے مطابق پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے والے افراد کو دس سال تک قید ہو سکتی ہے، اور بار بار یہ جرم کرنے پر سزا دگنی کر دی جائے گی۔
اس کے علاوہ دوسری شادی کرنے یا کروانے والے افراد کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والے افراد، مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست، دو سال قید اور ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانے کے حقدار ہوں گے۔ ساتھ ہی، غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
آسام کے وزیراعلیٰ نے اس قانون کی منظوری کے بعد کہا کہ یہ اقدام اسلام یا کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک جیسے ترکیہ نے بھی دوسری شادی پر پابندی عائد کی ہے۔
تاہم اس قانون کو متعدد حلقوں میں ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کمیونٹیز میں جہاں مذہب یا روایت کے تحت دوسری شادی کی اجازت ہے۔ مخصوص قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔