پنجاب کا بدنام زمانہ کار لفٹر کراچی میں مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پنجاب کے ضلع لیہ سے تعلق رکھنے والا بدنام زمانہ کار لفٹر خالد حسین کراچی میں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ ملزم کے خلاف پنجاب اور کراچی کے مختلف اضلاع میں کار لفٹنگ، موٹرسائیکل چوری اور دیگر سنگین جرائم کے 50 سے زائد مقدمات درج تھے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں کار لفٹنگ اور موٹرسائیکل چوری کی لہر برپا کرنے والا بدنام زمانہ ملزم خالد حسین آخرکار کراچی میں اے وی ایل سی پولیس کے ہاتھوں مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کراچی منتقل ہونے کے بعد بھی جرائم سے باز نہ آیا اور یہاں بھی متعدد وارداتیں کیں۔
حکام کے مطابق ملزم لیہ کا رہائشی تھا اور اس کے خلاف لیہ، سرگودھا، ملتان، ساہیوال، راجن پور، بہاولپور، فیصل آباد، لاہور اور رحیم یار خان سمیت مختلف اضلاع میں 50 سے زائد مقدمات درج تھے۔ ملزم متعدد بار گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خالد حسین کے خلاف کراچی کے تھانوں پاپوش، شاہ فیصل، الفلاح، عزیز بھٹی، بغدادی اور سائیٹ اے میں بھی مقدمات موجود تھے۔ ملزم کار اور موٹرسائیکل چوری میں مہارت رکھتا تھا۔
آخری واردات سی سی ٹی وی میں ریکارڈ
پولیس کے مطابق شیر شاہ سے چوری کی گئی کار، جو اس کی زندگی کی آخری واردات ثابت ہوئی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مقابلے کے بعد ہلاک ملزم سے یہی چوری شدہ گاڑی اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خالد حسین کا مقابلے میں ہلاک ہونا کراچی میں کار لفٹر گروہوں کے خلاف بڑی کامیابی ہے، کیونکہ ملزم درجنوں وارداتوں میں مطلوب تھا اور شہر میں کار لفٹنگ کے بڑھتے واقعات میں مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خالد حسین کراچی میں کے خلاف میں کار
پڑھیں:
پشاور میں رواں سال 517 افراد قتل ہوئے: پولیس رپورٹ
—فائل فوٹوخیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور میں رواں سال اب تک 517 افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔
’جیو نیوز‘ کو موصول پولیس رپورٹ کے مطابق پشاور میں 517 افراد کے قتل کے ساتھ اقدام قتل کے 785 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے پہلے 3 ہفتے میں 9 افراد قتل ہوئے، اسٹریٹ کرائمز کے دوران راہزنوں نے 10 شہریوں کو زخمی کیا۔
صوبے کے سب سے بڑے شہر میں 8 بچوں سمیت 37 افراد اغوا ہوئے، ان میں اغواء برائے تاوان کے 9 واقعات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چوری ڈکیتی کے 370 واقعات مختلف تھانوں میں درج ہوئے ہیں، کاری چوری کے 89، کار چھیننے کے 40 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں موٹر سائیکل چوری کے 219 اور موٹر سائیکل چھیننے کے 314 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔