کراچی کلفٹن میں خاتون کا قتل — پولیس نے اہم ملزم گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
کراچی کے علاقے کلفٹن میں پیش آنے والے دل خراش قتل کے کیس میں بوٹ بیسن پولیس نے ٹیکنیکل ٹریسنگ کی مدد سے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
25 نومبر کو کلفٹن بلاک 2، چائنا پورٹ کے قریب سے ایک خاتون کی تشدد زدہ، نیم برہنہ لاش ملی تھی۔ مقتولہ شہناز مسیح گزشتہ چند روز سے لاپتہ تھیں۔ وہ 22 نومبر کو گھر سے سودا لینے نکلی تھیں لیکن واپس نہ آئیں، جس کے بعد ان کی تلاش جاری تھی۔
ایس ایچ او بوٹ بیسن انسپکٹر سید راشد علی کے مطابق گرفتار ملزم احتشام ولد صادق نے 49 سالہ شہناز مسیح کو سر پر بلاک مار کر قتل کیا۔ اپنے جرم کو چھپانے کے لیے اس نے مقتولہ کے چہرے کو بھی بلاک مار کر مسخ کیا اور لاش جھاڑیوں میں پھینک دی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ اور ملزم ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے، اور قتل کی وجہ رقم کا لین دین بتایا گیا ہے۔ ملزم کا تعلق اختر کالونی سے ہے جبکہ اس کا آبائی ضلع اٹک ہے۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے مقتولہ کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے۔
گرفتار ملزم نے اعترافِ جرم بھی کرلیا ہے۔
قتل کا مقدمہ مقتولہ کے بیٹے عادل کی مدعیت میں 302 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ شہناز مسیح کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں جو دونوں شادی شدہ ہیں۔ پولیس گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یوکرین میں یہودیوں کی 180 سال پرانی عبادت گاہ کو آگ لگا دی گئی؛ ملزم گرفتار
یوکرین کے شہر سدیگورا میں واقع تاریخی کنیسہ (یہودی عبادت گاہ) جسے کلویز قدیشہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،رات گئے نذرآتش کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص کسی طرح کنیسہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور آگ لگادی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شخص انتظار میں تھا اور جیسے ہی سیکیورٹی گارڈ چند لمحوں کے لیے کسی کام سے گیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتبہ شخص کنیسہ میں گھس گیا۔
تاریخی یہودی عبادت گاہ میں آگ لگنے سے مقدس کتب جل گئیں اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ملزم کو سیکیورٹی گارڈ نے قابو میں کرکے پولیس کے حوالے کردیا جس سے تھانے میں کافی دیر پوچھ گچھ کی گئی۔
ادھر مقامی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہی شخص تقریباً ایک ماہ قبل اسی علاقے میں ایک گرجا گھر کو بھی آگ لگانے میں ملوث تھا۔
پولیس کے بقول ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ ملزم ذہنی امراض کا شکار ہے اور غیر متوازن شخصیت ہے تاہم اس کا نفیساتی معائنہ کرانا ابھی باقی ہے۔