ہانگ کانگ آتشزدگی میں ہلاکتیں 94 ہو گئیں، سیکڑوں افراد تاحال لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہانگ کانگ کے مصروف علاقے تائی پو میں واقع رہائشی کمپلیکس وانگ فُک کورٹ میں بھڑکنے والی ہولناک آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 94 ہو گئی جب کہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اب بھی ریسکیو ٹیمیں ملبے کے اندر دبے ممکنہ زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہانگ کانگ کی گزشتہ 7 دہائیوں میں پیش آنے والی بدترین آتشزدگی ہے جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 94 تک پہنچ چکی ہے اور اموات میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
متاثرہ عمارتیں حال ہی میں بڑے پیمانے پر مرمتی کام اور تعمیراتی تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد شبہ ظاہر کیا ہے کہ ٹاورز کی بیرونی سمت نصب تعمیراتی مواد نے شعلوں کو پھیلنے میں تیز رفتاری فراہم کی، جس کے نتیجے میں 8 میں سے 7 بلاکس چند لمحوں میں آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ اسی وجہ سے رہائشیوں کو محفوظ راستے تلاش کرنے میں شدید دشواری پیش آئی اور کئی افراد دھویں اور آگ کی شدت کی وجہ سے باہر نکلنے سے قاصر رہے۔
حکام نے غفلت اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں 3 تعمیراتی کمپنیوں کے اعلیٰ ایگزیکٹوز کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔
مقامی فائر سروس کا کہنا ہے کہ آگ چند ہی گھنٹوں میں مختلف منزلوں تک پھیل گئی تھی، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن انتہائی چیلنجنگ ہوگیا۔ شدید حرارت اور گرتے ہوئے ملبے نے فائر فائٹرز کی پیش قدمی کو مسلسل خطرات سے دوچار رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران بہادری سے اپنی ڈیوٹی انجام دینے والے 37 سالہ فائر فائٹر ہو وائی ہو آگ بجھاتے ہوئے لاپتا ہو گئے اور کئی گھنٹوں بعد انہیں ملبے کے نیچے سے بے ہوش حالت میں نکالا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 55 افراد کو زندہ نکالا جا چکا ہے جب کہ اسپتالوں میں داخل زخمیوں کی تعداد 76 ہے جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب 270 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ملبے کے نیچے پھنسے ہوسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہانگ کانگ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔