data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دوحا میں شاندار فتح حاصل کرنے والی رائزنگ اسٹار ایشیا کپ چیمپئن پاکستان شاہینز ٹیم وطن واپس پہنچ گئی، جہاں کھلاڑیوں کا استقبال گرمجوشی کے ساتھ کیا گیا۔

سپر اوور میں بنگلا دیش اے کو شکست دے کر ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کی فلائٹ پہلے سے شیڈول تھی ۔  لاہور پہنچنے کے فوراً بعد کھلاڑی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے جہاں اہلِ خانہ نے ان کا خیرمقدم کیا۔

ٹیم منیجمنٹ کے مطابق کھلاڑیوں نے اس ٹائٹل کے لیے بھرپور محنت کی اور سپر اوور میں اعصاب شکن مقابلہ جیت کر ثابت کیا کہ نوجوان شاہینز بڑے مواقع پر اپنی صلاحیتیں منوانے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی چیئرمین محسن نقوی جلد پاکستان شاہینز کے لیے بڑے انعام کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ پی سی بی میں اس حوالے سے ابتدائی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور قوی امکان ہے کہ ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں ان نوجوان کرکٹرز کو اعزازات بھی دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان شاہینز نے ایشیا کپ کے فائنل میں حیران کن اعتماد کے ساتھ میدان سنبھالا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں فتح حاصل کر کے ایونٹ کا تیسرا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان شاہینز

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں